سپریم کورٹ نے گنا کے کاشتکاروں کو معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی

منگل اپریل 22:55

سپریم کورٹ نے گنا کے کاشتکاروں کو معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے رپورٹ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے گنا کے کاشتکاروں کو معاوضوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت اس امرکاجائزہ لے گی کہ شوگرملزمالکان نے کسانوں کوادائیگیاں کی ہیں یا نہیں۔ منگل کوچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرچیف جسٹس نے استفسارکیاکہ پاکستان میں کل کتنی شوگرملز ہیں، کیا ان کی کوئی فہرست ہے ،شوگرملزکوپہلے بھی نوٹس دیاتھا لیکن لگتاہے نوٹس ڈیلیور نہیں ہوا، عدالت دیکھے گی کہ کاشتکاروں کوادائیگی کیوں نہیں کی گئی۔

سماعت کے دوران انجمن کسان کے وکیل نے پیش ہوکرعدالت کوبتایاکہ عدالتی حکم کے باوجود ہمیںادائیگی نہیں کی گئی جس کانوٹس لیا جائے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ حسیب وقاص شوگر مل کی طرف سے کون آیا ہے، جس پرڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کوبتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے جورپورٹ عدالت کو پیش کی گئی ہے، اس میں حسیب وقاص شوگر مل کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے، جس نے کاشتکاروں کو 71 فیصد ادائیگیاں کر دی ہیں،،چیف جسٹس نے کہا کہ 71 فیصد ادائیگیاں اچھی بات ہے مگرحسیب وقاص شوگر مل باقی ادائیگیاں کب کرے گی، سماعت کے دورا ن کاشتکاروں کی جانب سے عدالت کوبتایا گیا کہ حسیب وقاص شوگر مل والے کسانوں کو ادائیگیاں نہیں کر رہے، بلکہ صرف منظورنظر لوگوں کوادائیگی کی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے ا ستفسارکیا کہ سندھ میں گناکے کاشتکاروں کو ادائیگیوں کی کیا صورت حال ہے، کیا ان کوادائیگیاں کی گئی ہیں جس پرانجمن کاشتکاراں کے وکیل نے بتایا کہ سندھ میں کاشتکاروں کوادائیگیوں میں منظم فراڈ کیا جاتا ہے، جبکہ کاشتکاروں نے بتایا کہ سندھ میں کرشنگ سیزن ختم ہو گیا ہے لیکن کسانوں کا گنا کھیتوں میں کھڑا ہے،،سماعت کے دورا ن رکن قومی اسمبلی راناحیات نون نے عدالت سے استدعاکی کہ گناکاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کیلئے ہرضلع میںسیشن جج کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی جائے کیونکہ یہاں یہ حال ہے کہ مقررہ قیمت 180روپے کی بجائے کاشتکاروں کو 120 روپے فی من کے حساب سے ادا کیے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ جن کے نمائندے ہیں یہ بات اس اشرافیہ کو بھی سمجھادیں ،آپ تو خود رکن قومی اسمبلی ہیں، اس مافیا سے بات کریں اورکسانوں کامسئلہ حل کر ائیں ، جس پررکن قومی اسمبلی نے کہاکہ یہ ن لیگ،، پی پی یا پی ٹی آئی کا مسئلہ نہیں، بلکہ کسانوں کامعاملہ ہے ان کی مشکلات حل ہونی چاہئیں ، عدالت کوکاشتکاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ برادر شوگر مل نے 4سال سے کسانوں کو ادائیگیاں نہیں کی ہیں اورسب سے زیادہ ادائیگیاں اسی مل نے کرنی ہے، بعدازاں عدالت نے کسانوں کوادائیگیوں کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔