لاہور ، پنجاب کے سرکاری اداروں میں چھپن کمپنیاں بنانے والا علی بابا اپنے چالیس چوروں کا حساب دے، قمرزمان کائرہ

خادم اعلیٰ پنجاب نے چھپن کمپنیوں کے ذریعے جو غلبہ طاری کیا ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا ہے کمپنی بہادر کبھی سنا کرتے تھے جسے انگریزوں نے بنایا جبکہ پنجاب میں بنائے جانے والی چھپن کمپنیوں کا ذمہ دار ہیڈ بہادر ہے، صد ر پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب

جمعہ اپریل 20:44

لاہور ، پنجاب کے سرکاری اداروں میں چھپن کمپنیاں بنانے والا علی بابا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے صد ر قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پنجاب کے سرکاری اداروں میں چھپن کمپنیاں بنانے والا علی بابا اپنے چالیس چوروں کا حساب دے انہوں نے کہا کہ خادم اعلیٰ پنجاب نے چھپن کمپنیوں کے ذریعے جو غلبہ طاری کیا ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا ہے کمپنی بہادر کبھی سنا کرتے تھے جسے انگریزوں نے بنایا جبکہ پنجاب میں بنائے جانے والی چھپن کمپنیوں کا ذمہ دار ہیڈ بہادر ہے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکمرانوں نے اربوں ڈالروں کی کرپشن کی ہے اور یہ کہ رہے ہیں کہ سی پیک میں انتیس ارب کی سرمایہ کاری ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ ان کا یہ بھی دعویٰ کہ ان پر کرپشن کے کوئی الزامات نہیں ہیں لیکن میں ان سے یہ پوچھتا کہ نیب نے پنجاب کے جن اداروں کے افسران کو گرفتار کر رکھا ہے انہوں نے اربوں روپے کی کرپشن کس کے ایماء پر کی ہے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکمرانوں نے ہر شعبے میں جھوٹے دعویٰ کئے ایک طرف پنجاب کا حکمران دعویٰ کررہا ہے کہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیاگیا ہے اور گیارہ ہزارمیگاوٹ بجلی سسٹم میں آگئی ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو نام بدل دینا لہٰذا پنجاب کے عوام کو الیکشن 2018ء میں شہباز شریف کا نام بدل کر شوباز رکھنا ہوگا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر ایکسپورٹ کم کی ہے کسان کو اس کے اجناس کا معاوضہ نہیں مل رہا ہمیں بتایاجائے کہ ہم حقائق کی بات کو سچ مانیں یا تمہاری زبان کو سچ مانیں انہوں نے کہا کہ تین صوبائی حکومتیں چار چار ماہ کا بجٹ دے رہی ہیں جبکہ صوبہ پنجاب پورے سال کا بجٹ دینے کی بات کررہا ہے جس پر ملک کے دیگر صوبے احتجاج کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ تیس جون تک رواں مالی سال کا بجٹ پہلے سے چل رہا ہے حکومت نے اپنے اکنامک سروے میں عجیب و غریب تصویر پیش کی ہے پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھا کر ساڑھے چوبیس ارب کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ ساڑھے پچیس ارب روپے کی فگر کو پیپلزپارٹی کی حکومت چھوڑ کر گئی تھی انہوں نے کہا کہ آج حالات یہ ہے کہ لوگ غربت کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں کسان اپنی فصلیں جلا رہے ہیں سرکاری ملازمین سراپاا احتجاج ہیں لیکن حکومت کے ڈھولچی سب اچھے کی آواز لگا رہے ہیں انہوں نے وزیرخزانہ سے درخواست کی کہ وہ آئیں اور ایک غریب آدمی کے گھر کا بجٹ تیار کر کے دکھائیں۔