وفاقی بجٹ میں کراچی کے لئے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی ہم نے کئی اسکیمیں پیش کیں تھی لیکن انہیں شامل نہیں کیا گیا،میئرکراچی

سندھ کے دیہی علاقوں کے نام پر ہزاروں ارب روپے لوٹے گئے دیہی علاقے میں ایک ماڈل یونین کمیٹی نہیں بن سکی،کراچی کا حق مارا گیا،وسیم اختر

ہفتہ اپریل 23:36

وفاقی بجٹ میں کراچی کے لئے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی ہم نے کئی اسکیمیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں کراچی کے لئے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی ہم نے کئی اسکیمیں پیش کیں تھی لیکن انہیں شامل نہیں کیا گیا، توقع ہے کہ آنے والی حکومت کراچی کی نئی اسکیموں کو بجٹ میں شامل کرے گی، سندھ کے دیہی علاقوں کے نام پر ہزاروں ارب روپے لوٹے گئے خیر پور، لاڑکانہ،نواب شاہ یا کسی دوسرے دیہی علاقے میں ایک ماڈل یونین کمیٹی نہیں بن سکی کراچی کا حق مارا گیا اور کراچی کو محروم رکھا گیا، یہ بات انہوں نے گارڈن ویسٹ ،یوسی19-میں سڑک کی استر کاری اور سیوریج لائنوں کے کاموں کا جائزہ لینے کیلئے دورے کے موقع پر کہی، ممبر صوبائی اسمبلی فیصل سبزواری، یوسی 19 کے چیئرمین رائس الدین، یوسی 18 کی چیئر پرسن مریم باجی، یوسی 28 کے چیئرمین ناصر تیموری، یوسی 26 کے چیئرمین فیصل امتیاز، عادل فاروقی، ورکس کمیٹی کے چیئرمین حسن نقوی، کونسلر سیدہ فرح ناز، ڈسٹرکٹ سائوتھ کے اپوزیشن پارلیمانی لیڈر مقیم عالم اور دیگر افسران اور منتخب نمائندے بھی ان کے ہمراہ تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارے بجٹ کا استعمال اب شروع ہوگیا ہے اور شہریوں کو زمین پر کام نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کراچی کے بے شمار مسائل ہیں جنہیں ہم حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں پانی و سیوریج کے مسائل نے شہریوں کی زندگی مشکل میں ڈالی ہوئی ہے اور کراچی کیلئے ترقیاتی فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں، میئر کراچی نے اس موقع پر دوکانداروں اور وہاں کے رہائشیوں سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ اپنی سڑکوں، گلیوں اور علاقے کی حفاظت او رترقی میں اپنا کردار ادا کریں سڑکوں پر نہ خود کچرا پھینکیں اور نہ ہی دوسروں کو پھینکنے دیں انہوں نے ایسے دکانداروں کو جو تیل اور ڈیزل استعمال کرتے ہیں ان سے درخواست کی کہ سیوریج کی لائنوں میں استعمال شدہ تیل، موبل آئل، ڈیزل اور پلاسٹک کی تھیلیاں نہ ڈالیںاس سے سیوریج کا سسٹم تباہ ہوتا ہے اور پانی سڑکوں پر آجانے کے باعث سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکا رہوجاتی ہے انہوں نے کہا کہ جب تک رہائشی افراد اپنے علاقے پر توجہ نہیں دیں گے بہتری نہیں آسکے گی، میئر کراچی نے کہا کہ اس علاقے کا دیرینہ مسئلہ تھا اور آج ہم نے اس سڑک کو مکمل کردیا ہے سڑک پر 109 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں اور یہ سڑک ساڑھے تین کلو میٹر طویل ہے اور یہ اس علاقے کی مرکزی شاہراہ ہے اس کی تعمیر سے لاکھوں افراد کو سہولت حاصل ہوگی، اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا کہ سندھ جو پیسہ کما کر دیتا ہے اس میں سے 90 فیصد کراچی کا حصہ ہوتا ہے لیاقت آباد کی گلیاں کیا چاہتی ہیں یہ سب جانتے ہیں کراچی کا اسے دینے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیا جارہا ہے فیصل سبزواری نے کہا کہ کراچی پاکستان کو چلاتا ہے اس لئے کراچی پر اگر بھر پور توجہ دی جائے اور کراچی کے فنڈز کراچی کو دیئے جائیں۔