افغانستان میں چاربم دھماکے،

طالبعلموں، صحافیوں سمیت 50 افرادجاں بحق،110زخمی دوخودکش دھماکے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرکے باہر،ایک قندھارمیں ہوا،ننگرہارمیں سڑک کنارے بم پھٹنے سے ضلعی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ جاں بحق کابل حملے میں ایک صحافی جاں بحق،دیگر سات زخمی ،ذمہ داری داعش نے قبول کرلی،قندھار حملے میں غیرملکی فورسزکی گاڑی نشانہ،11طالب عملوں سمیت 20مقامی شہری جان سے گئے

پیر اپریل 16:38

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) افغانستان کے دارالحکومت کابل اور صوبہ قندھار کے ضلع دامان میں تین بم دھماکوں میں طالبعلموں اور صحافیوں سمیت 49 افراد جاں بحق اور110 زخمی ہوگئے۔دریں اثناء افغان صوبے ننگرہار میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بحسود ضلع کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جاں بحق جبکہ ضلع کے ڈپٹی گورنر اور دیگر 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا کی رپورٹ مطابق صوبے قند ھار میں خودکش حملہ آور نے غیر ملکی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 20 شہری جاں بحق اور40زخمی ہوگئے۔مقامی حکام کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور نے صوبے کے ضلع دامان میں خود کو غیر ملکی سیکیورٹی فورسز کے قافلے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔اس حملے میں دامان میں واقع ایک مدرسے کے 11 طالب علم جاں بحق ہوئے تاہم اس حملے سے متعلق ابھی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب افغان دارالحکومت کابل میں دو بم دھماکوں میں متعدد صحافیوں سمیت 29 افراد جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہوگئے۔پیر کی صبح افغان دارالحکومت کے علاقے ششدرک میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ پہلے دھماکے میں خودکش حملہ آور نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے دفتر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس دھماکے کے 20 منٹ بعد دوسرا دھماکا ہوا، جس میں موقع پر موجود ریسکیو اہلکاروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حوالے سے افغان وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان دونوں حملوں میں کم از کم29 افراد جاں بحق اور60سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ان اموات میں اضافے کا امکان ہے۔دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جاں بحق افراد میں ان کا مقامی فوٹو گرافر شاہ مرائی بھی شامل ہے جو دھماکوں کے وقت موقع پر موجود تھا۔

اس کے علاوہ مقامی نشریاتی ادارے کے مطابق اس واقعے میں دیگر دو صحافی بھی زخمی ہوئے ۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوسرا دھماکا بھی خودکش تھا یا نہیں لیکن ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند گروپ داعش نے قبول کی ہے۔دریں اثناء افغان صوبے ننگرہار میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بحسود ضلع کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جاں بحق جبکہ ضلع کے ڈپٹی گورنر اور دیگر 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حادثہ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ضلع گورنر کے کمپاؤنڈ کے قریب گاڑی دھماکا خیز مواد سے ٹکرا گئی۔صوبائی گورنر آیت اللہ کے ترجمان نے دھماکے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میںتین پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی بھی ہوئے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاہم ابھی تک طالبان سمیت کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 22 اپریل کو کابل میں ووٹر رجسٹریشن سینٹر کے باہر خود کش دھماکا ہوا تھا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 57 افراد جاں بحق اور 119 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل 12 اپریل 2018 کو افغان صوبہ غزنی میں ضلعی حکومت کے کمپاؤنڈ پر طالبان کی جانب سے کیے گئے حملے میں ضلعی گورنر اور پولیس اہلکاروں سمیت سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ 2 اپریل کو افغان حکام نے ملک کے شمالی علاقے میں طالبان کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملے میں 20 شرپسندوں کے ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔