چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ 21 ویںصدی کا عظیم ترین اقتصادی منصوبہ ہے، ڈاکٹر ملیحہ لودھی

منصوبہ علاقائی روابط کی بنیاد پر تمام ممالک میں معاشی خوشحالی لائیگا،تقریبا100 ممالک کی شرکت کے بعد یہ عالمی منصوبہ بن چکا منصوبے کے تحت تین ہزار کلو میٹر سڑکوں ، ریلوے لائنز، پائپ لائنزاور دیگر انفراسٹرکچر سے چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملایا جائیگا، انٹرویو

پیر اپریل 19:00

چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ 21 ویںصدی کا عظیم ترین اقتصادی منصوبہ ہے، ..
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ 21 ویں صدی کا عظیم ترین اقتصادی منصوبہ ہے جو علاقائی روابط کی بنیاد پر تمام ممالک میں معاشی خوشحالی لائے گا،تقریبا100 ممالک کی شرکت کے بعد یہ عالمی منصوبہ بن چکا،منصوبے کے تحت تین ہزار کلو میٹر سڑکوں ، ریلوے لائنز، پائپ لائنزاور دیگر انفراسٹرکچر سے چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔

چینی میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان میں چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو اکیسویں صدی کا اہم ترین منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ46 ارب ڈالر کے اس منصوبے کے تحت تین ہزار کلو میٹر سڑکوں ، ریلوے لائنز، پائپ لائنزاور دیگر انفراسٹرکچر سے چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔

(جاری ہے)

ان منصوبے سے چین،، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں اربوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔۔سی پیک تین مرحلوں میں 2030 ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔مشرق و مغرب کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اپنے محل وقوع کی وجہ سے چین کیساتھ مل کر علاقائی روابط کے فروغ میں بے حد اہمیت حاصل ہو جائیگی۔انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط سے مراد صرف ممالک کے درمیان باہم روابط نہیں بلکہ ان ممالک کے عوام اور ان کے دلوں کے درمیان روابط بھی ہیں۔

ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا عوام سے عوام کے روابط کا پہلو جو سب کی جیت کا فارمولا ہے اس کا مقصد صرف پاکستان اور چین کے عوام نہیں بلکہ تمام لوگوں کی فلاح و بہبود ہے۔تقریباً ایک سو ممالک کی شرکت کے ساتھ اب یہ عالمی منصوبہ بن چکا ہے اور پاکستان کو اس منصوبے میں چین کا بنیادی شراکت دار ہونے پر بے حد خوشی ہے۔یہ منصوبہ پائیدار ترقی کے اہدار 2030 ء کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اقوام متحدہ کے فورم پر ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے چین کا ایک مستقل کردار ہے۔یہ عالمی ادارے کے فورم پر بین الاقوامی سلامتی، امن ، ترقی انسانی حقوق اور دیگر شعبوں میں ہونے والی سفارتکاری میں سرگرمی سے حصہ لیتا ہے۔۔چین اس حوالہ سے ہر ایک معاملے پر اپنے واضح موقف کا اظہار کرتا ہے اور چونکہ وہ خود ایک ترقی پذیر ملک ہے اس لئے وہ ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کی حمایت کرتا ہے عالمی اقتصادی مرکز ہونے کے باوجود چین نے اپنے مفادات کو ہمیشہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ علاوہ ازیں چین ترقی پذیر ممالک کے سب سے بڑے گروپ جی ۔ 77کے فورم پر بھی خاصا سرگرم ہے۔