پی ٹی آئی کی خواتین بارے نازیبا الفاظ کا استعمال ،رانا ثناء اللہ

منگل مئی 13:20

پی ٹی آئی کی خواتین بارے نازیبا الفاظ کا استعمال ،رانا ثناء اللہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) تحریک انصاف کی خواتین بارے نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے خلاف سمیت 2قرار دادیں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئیں ۔ تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس کی طرف سے جمع کروائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے تحریک انصاف کی خواتین کے بارے گھٹیا زبان استعمال کرنے پر شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی خواتین کے متعلق نازیبا بیان پر فوری معافی مانگیں ،،رانا ثناء اللہ کی بازاری زبان ان کے گندے ذہن کی نشان دہی کرتا ہے۔

رانا ثنا اللہ سمیت (ن) لیگی تحریک انصاف کے جلسہ کی کامیابی پر بوکھلاہٹ شکار ہے اورمینار پاکستان جلسہ میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت ن لیگ سے ہضم نہیں ہورہی، رانا ثنا اللہ کی سوچ میں غلاظت بھری ہوئی ہے رانا ثناء اللہ کا مخالفین پر گندی زبان بازی وطیرہ بن گیا ہے رانا ثنا اللہ پر مریم نواز اور کلثوم نواز کے کردار کے متعلق بیہودہ تقریر کرنے پر بھی ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

رانا ثنا اللہ کو خواتین کی عزت کا سبق سیکھنا چاہئے ماں و بہنوں کے عزت نہ کرنے والے شخص کو وزیر قانون رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں اس لئے اس مقدس ایوان کے اراکین یہ بھی متفقہ رائے ہے کہ حکومت پنجاب رانا ثناء اللہ کو فلفور وزارتِ قانون سے ہٹایا جائے اور اُس سے باز پرس کی جائے۔جبکہ مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی چوہدری عامر سلطان چیمہ کی جانب سے آلودہ گندے پانی سے برف کی تیاری کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ موسم گرما شروع ہوتے ہی آلودہ گندے پانی سے برف کی تیاری جاری ہے ،مارکیٹ میں مضر صحت برف کی فروخت عروج پر،کوئی پوچھنے والا نہیں،روائتی طریقے سے برف کی تیاری اور منتقلی کے لیے چنگ چی رکشوں کا استعمال،برف کے کارخانوں میں کام کرنے والے ملازمین حفظانِ صحت کے اصولوں سے لاعلم،شہری ٹھنڈی تسکین کی بجائے مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی اپنے ہی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کرانے میں ناکام، قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو روزانہ کی بنیاد پر برف کے کارخانوں کی چیکنگ کے عمل کو موثر بنائے۔