نوازشریف کا آصف زرداری کوسیاسی بیان بازی سے گریز کا مشورہ

میرے پاس وقت نہیں،میں اصولی اور نظریاتی مشن کی جدوجہد میں مصروف ہوں،زرداری صاحب! الزام تراشیوں کا دفترکھولنےکی بجائےانتخابات پرتوجہ دیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل مئی 16:02

نوازشریف کا آصف زرداری کوسیاسی بیان بازی سے گریز کا مشورہ
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم مئی 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ زرداری صاحب! قوم کوبتا ہی دیں کہ وہ کس کی کٹھ پتلی ہیں؟ زرداری صاحب آپ کل میری زبان توآج کس کی زبان بول رہے ہیں؟ بہترہوگا زرداری صاحب ذاتی الزام تراشیوں کا دفترنہ کھولیں؟ بلکہ انتخابات پرتوجہ دیں، زرداری صاحب کی جماعت دیہی سندھ تک سکڑچکی ہے۔

انہوں نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف زرداری کے بیان پراپنے ردعمل میں کہا کہ آصف زرداری کا بیان قومی جماعت کی قیادت کرنیوالے فرد کے شایان شان نہیں۔ زرداری صاحب کو یاد ہونا چاہیے وہ ایک بڑے قومی سیاستدان کےہمراہ رائیونڈ آئے تھے۔۔نوازشریف نے کہا کہ میں آج ایک بڑےاصولی اور نظریاتی مشن کی جدوجہد میں مصروف ہوں۔

(جاری ہے)

میری جدوجہد کامقصد پاکستان کےعوام کے حق حکمرانی کی بحالی ہے۔

میں اس طرح کی سیاسی بیان بازی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ زرداری کیچڑ اچھالنے اور تاریخ کومسخ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ زرداری کے’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘والے بیان پراسی شام ناپسندیدگی کا پیغام بھیجا۔ اگلے دن زرداری صاحب سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی۔ اس وقت زرداری صاحب نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ انہیں یہ پٹی میں نے پڑھائی؟ وعدہ خلافی کس نے کی؟ دھوکہ کس نے دیا؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کا حصہ بننے کیلئے مشرف کے مواخذے، ججوں کی بحالی، سترہویں ترمیم کا خاتمہ شرائط رکھی تھیں۔

مشرف سے اختلاف کا مقصدیہ نہیں ہوناچاہیے کہ ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے۔ آج تین سال بعد زرداری صاحب کو سچ بولنے کا خیال کہاں سے آگیا؟ زرداری شوق سے اپنا وزن عوام کے بجائے کسی اورکے پلڑے میں ڈالیں۔ کس نے تحریری معاہدوں سے انحراف کرتے ہوئے کہا یہ’’ قرآن وحدیث‘‘ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب نے یہ بتایا کہ وہ میرے اشاروں پرچل رہے تھے۔

زرداری صاحب قوم کو آج یہ بھی بتادیں کہ وہ کس کی کٹھ پتلی ہیں؟ زرداری صاحب ! کیا اتنے بھولے اور معصوم تھے کہ ورغلانے میں آگئے؟ زرداری صاحب کل میری زبان بول رہے تھے تو آج کس کی زبان بول رہے ہیں؟ بہتر ہوگا زرداری صاحب ذاتی الزام تراشیوں کا دفتر نہ کھولیں؟ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب اپنی توجہ انتخابات پر مرکوز رکھیں۔ نوازشریف نے کہا کہ مشرف کے اقدامات کی پارلیمانی توثیق سے میں نے انکار کیا تھا۔

زرداری صاحب نے اصرار کیا تھا مشرف کےاقدامات کی پارلیمانی توثیق کی جائے۔ زرداری صاحب کو معلوم ہے کہ اس میں میرا یا وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہ تھا۔ زرداری صاحب جانتے ہیں سندھ میں ڈاکٹر عاصم یا دوسروں کیخلاف نیب کارروائیاں کس کے کہنے پرہوئیں؟ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب نوشتہ دیوارپڑھنے کی کوشش کریں۔ زرداری صاحب کی جماعت دیہی سندھ تک سکڑ چکی ہے۔