جماعت اسلامی سندھ کے دفتر پر نمازیوں ، کارکنان پرتشدد ، خواتین سے بدتمیزی

امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کی شدید مذمت ، گورنر سندھ ، وزیراعلیٰ ، ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ سے فوری کارروائی کا مطالبہ

منگل مئی 20:54

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے نامعلوم افراد کی جانب سے جماعت اسلامی سندھ کے دفتر پر حملے، نمازیوں ،کارکنان پر تشدد ، خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی شدید مذمت اور اس عمل کو جماعت اسلامی پر حملہ قرار دیتے ہوئے گورنر سندھ،، وزیراعلیٰ،ڈی جی رینجرز،، آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کیخلاف گلبرگ تھانے میں داخل کردہ ایف آئی آر میں نامزد مجرمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

انہوں نے قبائ آڈیٹوریم میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے جماعت اسلامی سندھ کے دفتر پر حملہ ،اہل محلہ کو صاف وشفاف پانی کی فراہمی کے لیے قائم الخدمت واٹر فلٹر پلانٹ میں توڑ پھوڑ، کراچی کے امن کو دوبارہ تباہ کرنے کی سازش ہے، کراچی میں بدترین حالات میں بھی سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر حملے نہیں ہوئے تھے، ہم امن پسند شہری اور قانون وآئین پر چلنے پر یقین رکھتے ہیں، جماعت سلامی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم ہر پارٹی اور ان کے دفاتر کا احترام کرتے ہیں،قبائ کمپلیکس میں جماعت اسلامی کا صوبائی دفترسمیت گلبرگ زون، حلقہ خواتین سندھ ،الخدمت فا?نڈیشن سندھ کے دفاتر اور مسجد قبائ موجود ہے جس کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں، جس میں مردوخواتین کی مسائل کے حل کیلئے ہر ووقت آمدرفت جاری رہتی ہے۔

(جاری ہے)

مسلح افراد نے مسجد میں موجود نمازیوں اور مسافروں پر بھی تشدد کیا۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن جماعت ہے، ماضی میں بھی ہم نے کراچی میں امن کیلئے ہر قسم کی قربانی دی اور آئندہ بھی دینگے۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصراللہ عزیز،محمد عظیم بلوچ ، سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا اور جماعت اسلامی گلبرگ زون کے امیر کامران سراج بھی موجود تھے۔ #