میمو گیٹ … سنا ہے ،ْ حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے انکار کرایا گیا ہی چیف جسٹس کا ڈی ایف آئی اے سے استفسار

میمو گیٹ ،ْحسین حقانی کی تحویل پر امریکی کہتے ہیں ہمارا بندہ بھی آپ کے پاس ہے ،ْ ڈی جی ایف آئی اے کا عدالت میں بیان کوئی امریکی سپریم کورٹ کو بیان حلفی دے کر پیش نہ ہو تو امریکا کے مانگنے پر پاکستان انکار کرسکتا ہی چیف جسٹس کا سوال امریکی حکام کی جانب سے تعاون کیا جارہا ہے اور ایم کیو ایم کے بانی کے کیس میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے ،ْ ڈی جی ایف آئی اے احمر بلال صوفی، حسین حقانی کی وطن واپسی سے متعلق معاونت کریں ،ْسپریم کورٹ نے احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کر دیا

بدھ مئی 16:10

ا سلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی ایف آئی نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا ہے کہ حسین حقانی کی تحویل کے معاملے پر امریکی حکام کہتے ہیں کہ ہمارا بندہ بھی آپ کے پاس ہے۔ بدھ کو چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔۔چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ سنا ہے ،ْ حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے انکار کرایا گیا ہی ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ میری امریکی حکام سے بات ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں ہمارا بھی ایک بندہ آپ کے پاس ہے ،ْ میں نے امریکی حکام کو ریڈ وارنٹ بھی دکھائے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے سوال کیا کہ امریکی حکومت نے حسین حقانی کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہی کوئی امریکی سپریم کورٹ کو بیان حلفی دے کر پیش نہ ہو تو امریکا کے مانگنے پر پاکستان انکار کرسکتا ہی ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حسین حقانی کی طرف سے 4.1 بلین روپے کرپشن کی بات بھی امریکی حکام کو بتادی ہے، امریکی حکام کی جانب سے تعاون کیا جارہا ہے اور ایم کیو ایم کے بانی کے کیس میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ انٹرپول میں 5 بھارتی موجود ہیں مگر ہمارا ایک بھی نمائندہ نہیں، ہمارا تعلق غریب ملک سے ہے۔۔سپریم کورٹ نے قانون دان احمر بلال صوفی کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ احمر بلال صوفی، حسین حقانی کی وطن واپسی سے متعلق معاونت کریں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت کے دوران میموگیٹ کیس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ حسین حقانی وطن واپس آکر میمو گیٹ کاسامنا کریں۔