سپریم کورٹ میںکراچی اورراولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں واقع بحریہ ٹائون کے منصوبوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل‘ فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

جمعرات مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے کراچی اورراولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں واقع بحریہ ٹائون کے منصوبوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اورکہاہے کہ سات سال سے یہ کیس سن رہے ہیں جوحقائق ہیں وہ سب کے سامنے ہیں لیکن باربار ایک ہی طرح کے دلائل دہرائے جارہے ہیں۔ جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بحریہ ٹائون کے منصوبوں کے حوالے سے دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کی ، اس موقع پربحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کی جانب سے وکیل اعتزاز احسن پیش ہو کراپنے دلائل میں کہا کہ بحریہ ٹاون کیلئے عدالت زمین کی ڈیمارکیشن پر ڈیمارکیشن کرا رہی ہے جس سے ہمیں فسٹریشن ہو رہی ہے، کیونکہ کوئی بھی ڈیمارکیشن درست نہیں ہو رہی،فاضل وکیل نے مزید کہا کہ درخواست گزار محمد شفیع نے بحریہ ٹاون راولپنڈی کے خلاف جنگلات کی زمین پر قبضہ کرنے کی تحقیقات کیلئے 2011ء میں پیٹیشن دائر کی تھی جس کی پہلی سماعت مئی 2013ء میںہوئی تھی، جب پنجاب حکومت اس معاملے میں کامیاب نہیں ہوئی تو جون 2012ء کو بحریہ کے مالک اور ارسلان افتخار آمنے سامنے آگئے، جس کے بعد ہی یہ کیس سپریم کورٹ میں چلایا گیا۔

(جاری ہے)

اعتزاز نے کہا کہ پہلے یہ درخواست انسانی حقوق کے مقدمے کے طور پر زیر التوا تھی‘ ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے خلاف بھی جنگلات کی زمین پر قابض ہونے کی شکایت تھی مگر صرف بحریہ ٹاؤن کیخلاف مقدمہ بنایا گیاہے جبکہ ڈی ایچ اے سے کسی کو بلایا تک نہیں گیا۔ عدالت نے اس وقت راولپنڈی کے ڈی سی او اور ضلعی فارسٹ افسر کو طلب کیا تھا۔ دونوں افسران نے پیش ہوکرعدالت کو بتایا تھا کہ موضع تخت پڑی اور لوہی بھیر میں بحریہ ٹاؤن نے تعمیرات کر لی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب زمین ہمارے پاس ہی تھی تو ہم نے تعمیرات توکرنا تھیں، کیا ہم زمین کو اسی طرح چھوڑ دیتے۔ ستمبر 2015 ء میں یہ مقدمہ آخری بار سنا گیا اور اس میں ڈی سی کو زمین پرقبضے کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ڈیڑھ سال بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو ڈی سی کو ہداہت کی گئی کہ محکمہ مال، سروے آف پاکستان اور محکمہ جنگلات کو زمین کی ڈیمارکیشن کیلئے کہا گیا ہے اگلے دن سات اپریل کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنرز عدالت میں پیش ہوگئے لیکن کوئی نئی رپورٹ سامنے نہیں آئی، جسٹس اعجاز افضل نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ ساری باتیں کر لی ہیں، باربار وہی حقائق ہیں جو دہرائے جا رہے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ میں باتیں کر رہا ہوں جو عدالت کے علم میں نہیں ہیں، تین ستمبر دو ہزار پندرہ کے عدالتی حکم پر بحریہکی زمین کی ڈیمارکیشن کی گئی لیکن اس میں محکمہ مال کو شامل نہیں کیا گیا، صرف سروے آف پاکستان اور محکمہ جنگلات نے مل کر علاقے کی نشاندہی کے بعد اپنی رپورٹ بنائی جو عدالتی حکم کے مطابق نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اسی لیے ہم اس کیس کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں مگر بار بار وہی دلائل دہرا ئے جارہے ہیں۔

عدالت کا وقت ختم ہونے پر ایک اور وکیل نے استدعا کی کہ باقی گزارشات تحریری طور پر طلب کی جائیں تو جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم اس مقدمے کو سات سال سے سن رہے ہیں، اب یہ مکمل ہو رہا ہے تو اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔۔اعتزاز احسن کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔