اسرائیلی عدالت کا فلسطینی شاعرہ دارین طاطور پر نفرت کو ہوا دینے کا الزام

جمعہ مئی 13:00

مقبوضہ بیت المقدس۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے فلسطینی شاعرہ اور ادیبہ دارین طاطور پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف نفرت پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق اسرائیلیعدالت کا کہنا ہے کہ طاطور اپنی شاعری کے ذریعے سوشل میڈیا پر فلسطینی نوجوانوں کو اسرائیل کے خلاف اکسا رہی ہے۔

عدالت نے یہ الزام طاطور کی اکتوبر 2015ء میں شوشل میڈیا پر پوسٹ منظوم کلام کی بنیاد پر عائدکیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے ایک ویڈیو میری قوم مزاحمت جاری رکھے کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس نظم کے ساتھ فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔فلسطینی شاعرہ کو اسرائیلی پولیس نے 11 اکتوبر 2015ء کو فلسطین کے شمالی شہر الناصرہ کے علاقے رینیہ سے گرفتار کیا تھا۔ نومبر میں ان پر اسرائیل کے خلاف تشدد پر اکسانے اور ایک دہشت گرد گروپ کی حمایت کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ ان کے خلاف جاری مقدمہ کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی گئی ہے۔ آئندہ کی تاریخ میں عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔