حکومت آزادکشمیر نے ایل او سی پر بھارتی فائرنگ کے متاثرین کیلئے معاوضہ جات ،طبی مراکز میں ڈاکٹرز ،پیرا میڈیکس اور ادویات کی فراہمی ،متاثرہ علاقوں میں فرسٹ ایڈ پوسٹس کی تعمیر ،تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کیلئے رعائتی انراخ پر لکڑ کی فراہمی سمیت کئی سفارشات کی اصولی منظوری دیدی

لائن آف کنٹرول پر آباد عوام ہمارا دفاعی حصار ہیں ،پاک فوج کے ساتھ مل کر دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ،متاثرین کو تمام جملہ سہولیات مہیا کی جائیں گی ، راجہ فاروق حیدر

جمعہ مئی 16:50

مظفر آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) حکومت آزادکشمیر نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے متاثرین کے لیے معاوضہ جات ،ایل او سی پر واقع طبی مراکز میں ڈاکٹرز ،پیرا میڈیکس اور ادویات کی فراہمی ،ایل او سی کے متاثرہ علاقوں میں فرسٹ ایڈ پوسٹس کی تعمیر ،تباہ شدہ مکانات کی تعمیر کے لیے رعائتی انراخ پر لکڑ کی فراہمی ،،شہید اور زخمی ہونے والوں کی ایف آئی آر بھارتی فوج کے خلاف درج کرنے ،،لائن آف کنٹرول کے علاقوں کے لیے موبائل فون سروس کی فراہمی ،ایل او سی کے عوام کے لیے بنیادی سہولیات کی فوری فراہمی ،ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کی تشکیل ،ایل او سی کے ایریاز میں 1122سروس کے اجراء سمیت دیگر سفارشات کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے ۔

ایل او سی کے علاقوں میں آباد لوگوں کے لیے اسلحہ لائسنس فیس معاف کر دی گئی ہے آزادکشمیر کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کی طرف سے لائن آف کنٹرول کے بھارتی فائرنگ کے متاثرین کے لیے تجاویز پیش کی گئیں کابینہ کی خصوصی کمیٹی وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز کی سربراہمی میں قائم کی گئی تھی جس میں وزیر مال سردار فاروق سکندر ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی اور سیکرٹری بورڈ آف ریونیو شامل تھے کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے لائن آف کنٹرول کے متاثرین انڈین فائرنگ کے مسائل کے حل کے لیے سفارشات پیش کیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متفقہ طور پر منظوری دی گئی کابینہ اجلاس میں کمیٹی کی سفارشات پر بھارتی فائرنگ کے شہداء کے لیے معاوضہ 10لاکھ روپے کرنے ،معذور ہونے والوں کے لیے معاوضہ 8لاکھ روپے کرنے ،شدید زخمی کے لیے 3لاکھ ،معمولی زخمی کے لیے 40ہزار،تجارتی سامان کے لیے 50ہزار،گھریلو سامان 50ہزار ،تباہ شدہ پختہ مکان کا معاوضہ 1لاکھ روپے ،کچے مکان کا معاوضہ 60ہزار روپے ،پکی دکان کا معاوضہ 50ہزار ،کچی دکان کا معاوضہ 30ہزار،بکریاں وغیرہ کا معاوضہ 15ہزار،اونٹ کا معاوضہ 90ہزار ،گائے بھینس کا معاوضہ 50ہزار ،گھوڑے کا معاوضہ 50ہزار ،گدھے کا معاوضہ 40ہزار روپے مقرر کیے جانے کی منظوری دے دی گئی ہے جزوی تباہ ہونے والے پکے مکان کا معاوضہ 60ہزار کچے مکان کا معاوضہ 40ہزار ،بڑی گاڑی کا معاوضہ 1لاکھ اور چھوٹی گاڑی کا معاوضہ 50ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے ایل او سی کے متاثرین انڈین فائرنگ کو معاوضہ جات کی ادائیگی کے لیے ہر ضلع کو بجٹ مہیا کیا جائے گا شہداء اور زخمیوں کو معاوضہ جات کی ادائیگی اور شدید زخمیوں کے تعین کے لیے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں مستقل بورڈ قائم ہوں گے یہ بورڈ اسسٹنٹ کمشنر ،سی ایم او ،ڈی ایس پی اور آرمی کے نمائندے پر مشتمل ہو گا کمیٹی کی سفارشات کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے ڈیڑھ کلو میٹر ایریا میں فرسٹ ایڈ پوسٹس تعمیر کی جائیں گی جہاں پیرا میڈیکل سٹاف 24گھنٹے حاضر رہے گا اور فرسٹ ایڈ پوسٹس کی عمارات شیل پروف ہوں گی لائن آف کنٹرول کے عوام کے لیے آئندہ مالی سال میں خصوصی ترقیاتی پیکیج دیا جائے گا ہر 15سے 20کلو میٹر کے علاقے میں ایمبو لینس ہمہ وقت موجود رہے گی ایمبولینس گاڑیوں کی خریداری تک دوسرے اضلاع سے ایمبولینسز کے لیے الگ سے بجٹ مہیا کیا جائے گا لائن آف کنٹرول سے ملحقہ اضلاع میں سرجن ،گائنا کالوجسٹ ،انتھاسیسٹ اور دیگر سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں ،بی ایچ یوز اور آرایچ سیز میں خالی آسامیاں فوری طور پر پر کی جائیںگی اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایل او سی کے طبی مراکز میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے ڈاکٹرز کو خصوصی پیکیج دیا جائے گا لائن آف کنٹرول سے ملحقہ لنک روڈز کی فوری مرمت کی جائے گی ضلعی انتظامیہ اور لوکل گورنمنٹ مل کر فوری سڑکات کی نشاندہی کریں گے اس سلسلہ میں محکمہ شاہرات اور لوکل گورنمنٹ کو خصوصی بجٹ مہیا کیا جائے گا لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں ہمہ وقت بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور بجلی کی ترسیل کے لیے سٹاف تعینات کیا جائے گا ایسے علاقے جہاں پول اور تاریں خریدنے کی ضرورت ہے وہاں کے لیے فوری خریداری کی جائے گی اور محکمہ برقیات اس حوالے سے خصوصی سکیم لانچ کرے گا ایل او سی کے علاقوں میں زیرو لوڈ شیڈنگ کے لیے وفاقی سطح پر بات چیت کی جائے گی بھارتی فائرنگ سے تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیر کے لیے فوری بنیادوں پر رعائتی انراخ پر لکڑ مہیا کی جائے گی ٹمبر کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا کمیٹی کی سفارشات کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایل او سی کے متاثرہ علاقوں میں تعینات انتظامی آفیسران کو اچھی گاڑیاں مہیا ء کی جائیں گی تاکہ وہ بروقت دورے کر سکیں ،کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کمشنر اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کو پابند کیا گیا ہے وہ ہر ماہ لائن آف کنٹرول کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں ڈپٹی کمشنر ،ایس پی ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہر 15دن کے بعد متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر ،ڈی ایس پی ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر باقاعدگی سے متاثرہ علاقوں کے دورے کریں گے اور ہر شہید کے جنازے میں شرکت کریں گے کابینہ کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے کمیٹی میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور سیکرٹری مالیات بھی شامل ہیں کمیٹی لائن آف کنٹرول کے متاثرہ علاقوں کے عوام کو سہولیات کی فراہمی اور بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-18میں شامل کرنے اور قوانین و قواعد میں ترامیم کے لیے اقدامات اٹھائے گی ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر کابینہ سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر آباد عوام ہمارا دفاعی حصار ہیں جو پاک فوج کے ساتھ مل کر دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں بھارتی فوج کی خواہش ہے کہ لائن آف کنٹرول پر آباد عوام پیچھے ہٹ جائیں اسی مقصد کے لیے بھارتی فوج سویلین آبادی کو جارحیت کا نشانہ بنا رہی ہے لیکن بھارتی فوج کی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہو گی لائن آف کنٹرول کے متاثرین کو جملہ سہولیات مہیا کی جائیں گی اور انہیں ان کی دہلیز پر بنیادی ضروریات مہیا کی جائیں گی وزیراعظم آزادکشمیر نے ہدایت کی کہ عوامی نمائندے بالخصوص وزراء کرام انڈین فائرنگ سے متاثرہ علاقوں کے دورے کریں اور کھلی کچہریاں لگا کر متاثرین کے مسائل معلوم کریں اور مسائل موقع پر حل کیے جائیں آفیسران کے لیے جو ٹور پروگرام دیا گیا ہے اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے مشاورتی عمل میں متاثرہ علاقوں کے منتخب نمائندہ کو شامل کیا جائے لائن آف کنٹرول کے متاثرین کے لیے تجویز کیے گئے اقدامات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی متاثرین انڈین فائرنگ کی بحالی کے لیے تمام محکمے اور ادارے مل رک کام کریں اور تجاویز پر عملدرآمد یقینی بنائیں وزیراعظم آزادکشمیر نے لائن آف کنٹرول کے متاثرین کے لیے وزیر تعمیرات عامہ کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کے کام کو شاندار الفاظ میں سراہا اور لائن آف کنٹرول کے عوام کو بھارتی جارحیت کے سامنے ڈٹے رہنے پر خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ساری کشمیری قوم مسلح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دفاع وطن کا فرضہ سرانجام دے گی اور ہندوستانی فوج کے مذموم عزائم خاک میں ملا دے گی بزدل دشمن سول آبادی کو نشانہ بنا کر ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا ہندوستان سے آزادی کے لیے کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہی جدوجہد آزادی جاری و ساری رہے گی ۔