پنجاب کی12 حساس اضلاع میں پولیو مہم کا سوموار سے آغاز

خیبر پختونخواہ اور سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی تصدیق ، جنوبی پنجاب سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بلوچستان کے ضلع دکی میں پولیو وائرس سے ایک بچہ عمر بھر کے لئے معذور

جمعہ مئی 20:03

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) ملک بھرمیں پولیو وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بعد، پنجاب کی12 حساس اضلاع میں پولیوسے بچائو کی مہم7مئی سے 11 مئی کے درمیان منعقد کی جارہی ہے۔ خیبر پختونخواہ اور سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ جبکہ جنوبی پنجاب سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بلوچستان کے ضلع دکی میں پولیو وائرس سے ایک بچہ عمر بھر کے لئے معذور ہو چکا ہے۔

چنانچہ ایسے تمام اضلاع جن کی حدود پنجاب سے ملتی ہے یا بڑے شہر جن میں پولیو زدہ علاقوں سے آمدورفت جاری ہے، وہاں پولیو مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں لاہور،، ملتان ، راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، رحیم یار خان ،لیہ ، بھکر، اٹک ، میانوالی او رشیخوپورہ شامل ہیں۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں وزیر برائے پر ا ئمری ا ینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر نے گزشتہ روزاضلاع کوتیاری مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔

انہوں نے کہا کہ مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً80 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انھوں نے کہا پولیو مہم کے آغاز سے پہلے قوم کو یقین دلایا جاتا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ، موثر اور حکومت پاکستان کے تحت کام کرنے والی اتھارٹیز سے منظور شدہ ہے۔ انھوں نے کہا جو والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین نہیں پلاتے وہ نہ صرف اپنے بچوں بلکہ گردونواح کے دوسرے بچوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

سیکریٹری پر ائمری ا ینڈ سیکنڈری ہیلتھ علی جان خان نے کہا کہ مہم کے لیے 24000ہزار سے زائد ٹیمییں تشکیل دی گئ ہیں جن میں موبائل،، ٹرانزٹ اور فکسڈ ٹیمیں شامل ہیں۔ سیکریٹری صحت علی جان خان نے کہا گزشتہ مہمات کے اعدادوشمار کی روشنی میں رہ جانے والے بچے اور علاقوں پر خاص توجہ دی جاے گی۔کوآرڈینیٹر ایمرجنسیی آپریشن سنٹر ڈاکٹر منیر احمد نے کہا کہ بین الصوبائی نقل و حمل پنجاب کے ایک بڑا چیلنج ہے اور دوسرے صوبوں کے سنگم پر واقع اضلاع جہاں سے بین الصوبا ئی نقل و حمل کے اہم راستے ہیں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

اس مقصد کے لیے اہم مقامات اور گزرگاہوں پر پوا ٴنٹ قائم کیے گیے ہیں جہاں صحت محافظ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر منیر نے اس بات کی تاکید کی کہ پولیو کے خلاف مدافعتی مہم کے دوران تمام بچوں کو ہر بار ویکسین پلانا انتہائی ضروری ہے۔ ڈاکٹر منیر کا کہنا تھا پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں (بعض اوقات10 سے بھی زائد بار)بچے کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ کوآرڈینیٹر ایمرجنسیی آپریشن سنٹر نے والدین سے کہا کہ بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور کسی جگہ ٹیمیں نہ پہنچنے کی صورت میں قریبی مراکز صحت یا عارضی حفاظتی ٹیکوں کے سنٹر پر قطرے پلوائیں۔ کسی شکایت کی صورت میں مہم کے دنوں میں0800-99000 ہیلپ لائن پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔