خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کی نشستوں میں50سے 80تک بڑھانے کی منظوری

جمعہ مئی 20:44

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) پاکستان میڈیکل وڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اسلام آباد کی انسپیکشن ٹیم جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممبران شامل تھے ۔ خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کی نشستوں میں50سے 80تک بڑھانے کی منظوری دیدی۔خیبر کالج آف ڈینٹسٹری ملک کا اعلیٰ درجے کا تعلیمی ادارہ ہے جس کا قیام 1964میں عمل میں آیا۔ایم ٹی آئی ایکٹ2015کے نفاذ کے بعد پرنسپل کو ڈین کا درجہ دیا گیا۔

جس کی سرپرستی میں اکیڈیمک کونسل، ایسوسی ایٹ ڈین ، چیئرمین برائے کلینکل اینڈالائیڈ، چیئرمین برائے بیسک سائنسسزاینڈالائیڈکام کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کی سی ڈی کے عارضی ڈین کے طور پر 20جون 2015تا2مارچ 2017فرائض انجام دیتے رہے۔ 3مارچ 2017سے انھوں نے پہلے باقاعدہ ڈین کی حیثیت سے فرائض سنبھالے تب سے ادارہ بہتری کی سمت میں گامزن ہے۔

(جاری ہے)

اس ٹیم کی ممبران میں پروفیسر ڈاکٹر احمد طارق چشتی(بولس ایم سی کوئٹہ))، پروفیسر ڈاکٹر ایم نعیم(راولپنڈی)، پروفیسر ڈاکٹر عقیل احمد((کراچی))،پروفیسر ڈاکٹر اعجازحسین(راولپنڈی)، پروفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن ((کوئٹہ))،پروفیسر ڈاکٹر رضوان(سیالکوٹ)، پروفیسر ڈاکٹر محسن گراچ((کراچی))، پروفیسر ڈاکٹر عابدہ اعجاز((لاہور))، پروفیسر ڈاکٹر آصف علی شاہ ((لاہور) ڈاکٹر عنصر مقصود (اسلام آباد)، ڈاکٹر ایم کلیم(اے ایف آئی ڈی) اور ڈاکٹر اظہر علی شاہ شامل ہیں۔

کے سی ڈی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول نے ٹیم کو تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ جس میں موجودہ سہولیات، مجموعہ داخلے، عمارت، موجودہ اور آئندہ کیے جانے والے پلان کے بارے میں بتایا۔ ٹیم کو طالبعلموں کی نصابی اور غیر نصابی چیزوں کے بارے میں بتایا ۔ ڈین نے ٹیم کو مفت فراہم کی جانے والے طبی سہولیات کے بارے میں بھی بتایا۔اس موقع پر تمام شعبوں کے سربراہان بھی موجود تھے ۔

ٹیم نے کے سی ڈی انتظامیہ کی کوششوں اور کام کی تعریف کی اور بہترین تبدیلیوں کو سراہا۔بریفنگ کے بعد ڈین کے ساتھ مل کر ٹیم نے موجودہ سہولیات اور ادارے کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔شعبوں کے سربراہان نے موجودہ تعلیمی وٹریننگ کی سہولیات، عمارت، آئندہ کے جانے والے تبدیلیاں اور نئی عمارت دیکھائی ساتھ ہی فیکلٹی کی موجودہ پوزیشن، تعلیمی نفاذ شدہ طریقہ کار،، مریضوں کے معالجے اور دیگر شعبوں کے بارے میں بتایا۔

تاحال 1800ڈینٹل گریجویٹ فارغ التحسین ہو چکے ہیں۔ انڈر گریجویٹ کے ساتھ ساتھ پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔نفاذ ایم ٹی آئی ایکٹ 2015نے اداروں کو خود مختاری دی اوربہتری بھی آئی ہے۔ تعلیمی معیار میں بہتری -خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے نتائج میں BDSکے طالب علموں نے 65%سے 88%تک بہتری آئی۔ معاشی طور پر 200%اضافہ اسکے علاوہ طالب علموں کی غیر نصابی کارکردگی میں بہتری ہے۔نئی سات منزلہ عمارت کی تعمیریعنی تکمیل کے قریب ہے جس سے شعبوں کو وست ملے گی اور خیبر کالج آف ڈینٹسٹری ملک کا بڑا ڈینٹل ہسپتال بن جائے گا۔ فیکلٹی کو بہتر بنانے کے لئے بھرتیاں بھی کی گئی ہیں۔