چوہدری نثارکاوزیراعظم کونیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانےکامشورہ

شکوک وشبہات ڈالےگئےکہ ایک مخلوق ہے جس کاپاکستانی سیاست میں عمل دخل ہے،یہ توڈان لیکس کودوبارہ واپس لایا جارہا ہے۔پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 17:21

چوہدری نثارکاوزیراعظم کونیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانےکامشورہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء چودھری نثار نے وزیراعظم کونیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلا س بلانے کا مشورہ دے دیا۔انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کوآرمی چیف، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی کوبلانا چاہیے تھا، اور ان کے سامنے تمام مسائل کوسامنے رکھنا چاہیے تھا،نیشنل سکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلائیں اور اس مسئلے کوحل کروائیں، شکوک وشبہات ڈالے گئے ہیں کہ ایک مخلوق ہے جس کاپاکستانی سیاست میں عمل دخل ہے،یہ توڈان لیکس کودوبارہ واپس لایا جارہا ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے لیتا ہوں ۔کسی سے آرڈر نہیں لیتا۔کسی تحریک کاحصہ ہوں اور نہ ہی کسی سے آرڈر لیتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہاکہ سب غلط فہمی دور کرلیں میں کسی سے آرڈر نہیں لیتا۔

(جاری ہے)

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے ایک سوال پرکہا کہ نوازشریف اور عمران خان مجھ سے متعلق سوال پرخاموش رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں کی خاموشی سے میرا کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ مجھے پتا کہ آپ پوچھیں گے کہ میں ن لیگ میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا۔

مجھ سے سوال کیا جائے گا کہ پی ٹی آئی میں جارہاہوں یا نہیں جارہاہوں۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں کس نے کہا کہ سپریم کورٹ جائیں، جے آئی ٹی کوقبول کریں؟ کس نے کہاکہ تقریر کریں ۔ہم نے خود کیا۔جب آپ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کمیشن بنائے ہمیں قبول ہوگا۔پھر جب فیصلہ آتا ہے توآپ کہتے ہیں زیادتی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ ہی واپس لے سکتی ہے۔

لیکن ہمیں اس حد تک نہیں جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ حدیبیہ کیس میں کیا یہ نہیں ہوسکتا؟ میں میاں صاحب کوسپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی نااہلی کے وقت میں نے مشورہ دیا کہ پورا زور الیکشن پرلگایا جائے۔ساتھ ہی 6مہینوں کی قدغن پربھی راستہ نکالیں۔سختی سے کہیں کہ مجھے زیادتی ہوئی، سیاسی اور عدالتی میدان میں مقابلہ کروں گا۔

گلی کوچوں میں بھی مقابلہ کروں گا۔یہ نہ کہیں کہ ڈوریاں ہلارہا ہے،یہ نہ کہیں کہ پانچ پی سی او ججز کا نہ کہیں۔انہوں نے کہاکہمیں نارا ض ہوتا توجب نااہلی ہوئی توایک ایم این ایز جانے والوں کا طوفان تھا۔میں خاموشی سے بھی یہ کام کرسکتا تھا۔ لیکن میں سازشی نہیں ہوں۔ کیونکہ میں پارٹی کیلئے ایک ایک اینٹ رکھی ہے۔بہت سے ایم این ایز آتے ہیں لیکن میں ان کوکہتا ہوں کہ پارٹی میں رہنا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے ہر موقع پرحکومت اور پارٹی کوسپورٹ کیا ہے۔جب نوازشریف کیخلاف فیصلہ آیا تومیں اسمبلی میں نوازشریف کے حق میں ووٹ دیا۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں مجھے شدید اعتراض تھا جولوگ لائے گئے۔4مشرف کے ساتھیوں کوہم نے سینیٹ کا ٹکٹ دیا۔نارا ض ہوتا توووٹ دیتا؟یہ کہنا بند کردیں کہ ق لیگ کے لوگ ہیں۔آپ نے ان چار لوگوں کوٹکٹ دیا۔

ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔چوہدری نثار نے کہاکہ ساری زندگی نوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھای ہے لیکن میں جوتیاں نہیں اٹھا سکتا۔ان لوگوں نے میرا مشورہ نہیں مانا ۔یہ تصادم کے راستے پرچل پڑے۔لیکن میں چھوڑ کرنہیں گیا۔ بن بلائے میں کبھی کسی میٹنگ میں نہیں جاتا۔انہوں نے کہاکہ مجھے عمران خان اور نوازشریف کے بیانات پرافسوس ہواہے۔انہوں نے کہاکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان کی سیاست میں بلواسطہ یا بلاواسطہ کردار رہا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ بطور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کوآرمی چیف، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی کوبلانا چاہیے تھا۔ اور ان کے سامنے تمام مسائل کوسامنے رکھنا چاہیے تھا۔نیشنل سکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلائیں اور اس مسئلے کوحل کروائیں۔جو شکوک وشبہات ڈالے گئے ہیں کہ ایک مخلوق ہے جس کاپاکستانی سیاست میں عمل دخل ہے۔یہ توڈان لیکس کودوبارہ واپس لایا جارہا ہے۔

ڈان لیکس کوقوم کے سامنے لایا جاسکتا ہے۔اس سے کس کے کیا کرتوت ہیں سب سامنے آجائے گا۔ڈان لیکس کے ذریعے دنیا میں کیا پیغام گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ میاں صاحب نے کہا کہ میں پہلے نظریاتی نہیں تھا اب نظریاتی ہوں۔مجھے افسوس ہوا ہے۔اس پربھی پات ہونی چاہیے۔کیونکہ ہم نے پوری زندگی نظریاتی ہونے پرگزار تھی۔میں سمجھتاہوں کہ میری جماعت نظریاتی ہے۔

دائیں بازو کی جماعت ہے۔جواللہ اور نبی پاک ﷺ پرایمان رکھتی ہے۔دائین بازو کی جماعت پیپلزپارٹی ودیگر ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے الیکشن لڑنا ہے۔میں اس وقت جماعت میں ہوں ۔مجھے امید ہے کہ ہم اپنے آپ کوواضح کریں گے۔ہمیں ملکر پارٹی کابیانیہ بنانا ہوگا۔ملک ،اور اس کے بعد پارٹی اور عوام کاتحفظ ہے۔ملک ہے توسب کچھ ہے۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے ساتھ میری کثرت کیساتھ ملاقات ہوتی ہے۔میں جب بھی لاہور جاتاہوں ان سے ملتاہوں۔میری شہباز شریف سے ملاقات کوبڑا بڑھا چڑھا کرپیش کیا گیا۔میری نوازشریف سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔آخری میٹنگ ہوئی اس کے بعد نوازشریف نے مجھے یا میں نے ملاقات کی بات نہیں کی۔