بہاول پور، ایم ایم اے کا مقابلہ آیندہ الیکشن میں سیکولر،لبرل طبقہ اور کرپشن زدہ لیڈرز سے ہوگا، ڈاکٹر سید وسیم اختر

اتوار مئی 19:50

بہاول پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کا مقابلہ آیندہ الیکشن میں سیکولر،لبرل طبقہ اور کرپشن زدہ لیڈرز سے ہوگا۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے اس کرپٹ نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ الیکشن میں باکردار، دیانتدار اور دین سے محبت کرنے والی قیادت صرف ایم ایم اے ہی دے گی۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے یونین کونسل 8 میں منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہپاکستان کے سیاسی رہنما کئی دنوں سے انتخابات میں خفیہ ہاتھوں اور نادیدہ قوتوں کے کام دکھانے کے بیانات دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ 2013 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی کے پیچھے خفیہ ہاتھ کارفرماتھے اور 2018 ء کے انتخابات میں بھی خفیہ ہاتھ کام دکھائے گا۔

(جاری ہے)

پی پی پی اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ایک ہوگیاہے۔ دونوں ایک ہی ادارے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہارکر رہی ہیں اور رازوں کی باتیں کی جارہی ہیں، اب یہ رازو نیاز ختم ہونے چاہئیں، عوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق ملنا چاہیے۔ ایسے بیانات سے عام آدمی حیران و پریشان ہے انتخابی نظا م کی چولیں ہل گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے پورے انتخابی سٹرکچر کا جائزہ لینا اور خامیوں کو دو ر کرناہوگا۔

انہوںنے کہاکہ نگران وزیراعظم ایسے شخص کو بنایا جائے، جس کی غیر جانبداری اور دیانتدار ی پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کے التواء اور بروقت انعقاد پر افواہیں تو بہت گردش میں ہیں مگر الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے مروجہ سیاست کا حصہ نہیں بلکہ ایک حقیقی متبادل ہے۔ 13 مئی کو مینار پاکستان پر ایم ایم اے کا جلسہ ایک تاریخ رقم کرے گا اور سابقہ جلسوں کا ریکارڈ توڑ دے گا۔

انہوںنے کہاکہ ایم ایم اے عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے اور عوام کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے نجات دلانے کی سیاست کر رہی ہے۔ ہمارا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنایا جائے اور ہم سمجھتے ہیںکہ ملک و قوم کے تمام مسائل کا واحد حل ملک میں نظام مصطفی کے نفاذ میں ہے۔کنونشن سے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہاکہ چیف جسٹس نے ہوشربا ٹیکسوں پر جو ایکشن لیاہے اس کو سراہتے ہیں۔

سو روپے کے کارڈ پر چالیس روپے ٹیکس ظلم کی انتہا ہے۔ وفاقی حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا کوہ ہمالیہ لاد دیاہے۔ خیبر پختونخوا میں نگران حکومت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت نے کہاکہ ابھی تک وزیراعلیٰ کے پی کے نے نگران حکومت کے بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی۔ کنونش سے امیر شہر سید ذیشان اختر ،نصراللہ ناصر ،اقبال بڈانی،راشد علی و دیگر نے بھی خطاب کیا