حکومتی غلط پالیسیاں،سیگریٹ پر ٹائیر تھری،صرف 8 ماہ میں سگریٹ کی کھپت میں 45 فیصد اضافہ

پیر مئی 22:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) حکومتی غلط پالیسیاں اور سیگریٹ پر ٹائیر تھری کی وجہ سے ملک میںصرف 8 ماہ کے اندر سگریٹ کی کھپت میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے ، جون 2016 تک ملک میں سگریٹ کی کھپت 22 ارب سگریٹ تھی جس کے بعد حکومت نے سگریٹ کی ریٹل قیمت پر ٹیکس ڈیوٹی 63 فیصد سے کم کر کے 45 فیصد کر دی جس کی وجہ ملک میں سگریٹ کی کھپت 39 ارب سگریٹ تک پہنچ گئی ۔

پیر کے روز سینیٹ کو قائمہ کمیٹی خزانہ میںفنانس بل 2018 پر نئے ٹیکسوں اور ترامیم کے حوالے سے جائز ے اور تجاویز کے دوران وزارت قومی صحت عا مہ کے حکام پھٹ پڑے انہوں نے کہا ہے کہ WHO کے مطابق ہمیں سگریٹ کی کل قیمت پر 75 فیصد ٹیکس عائد کرنا چاہئے تا کہ ملک میں کم سے کم سگریٹ کا استعمال ہو۔ 2016 میںسگریٹ کے 88 روپے سے کم کے پیکٹ پر 38.8 روپے ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جبکہ 88 روپے سے زائد پیکٹ پر 74 روپے ٹیکس ڈیوٹی عائد تھی اس وقت کل قیمت فروخت پر ٹیکس کی شرح 63 فیصد تھی۔

(جاری ہے)

2018 میں حکومت نے ٹایئر تھری متعارف کروایا جس کے بعد 58 رو پے تک سگریٹ کے پیکٹ پر ٹیکس 16 روپے 58 روپے سے 90 روپے تک کے سگریٹ کے پیکٹ پر ٹیکس 30 روپے جبکہ 90 روپے سے زائد کی سگریٹ پیکٹ ہر 74 روپے ڈیوٹی عائد کر دی گئی جس سے مجموعی سگریٹ پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد رہی لیکن جس میں کم ہونے اور ریلیف ملنے پر سگریٹ کی کھیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا کمیٹی میںانکشاف ہوا کہ حکومت نے پاس غیر قانونی سگریٹ کے حوالے سے کوئی بھی دیٹا موجود نہیںہے۔

جو ڈیٹا حکومت کے پاس ہے وہ پاکستان ٹوبیکو کمپنیاں فراہم کرتی ہیں۔ جو ان کی اپنی مرضی کا ڈیٹا ہوتا ہے جبکہ الیکٹرانک سگریٹ کے حوالے سے بھی معلوم ہوا ہے کہ مارکیٹ میںایسے غیر معیاری سگریٹ کی بھر مارے ہے کمیٹی نے سگریٹ کے ٹائیر تھری کے حوالے سے معاملے کو آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات حکومت کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :