حکیم سعید گرائونڈ پر جلسہ کرنے کا تنازع ، بلاول بھٹو نے تحریک انصا ف کوجلسہ کرنے کی پیشکش کردی

منگل مئی 23:29

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین12 مئی کو ایک ہی مقام حکیم سعید گرائونڈ پر جلسہ کرنے کا تنازع پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بذریعہ ٹوئیٹ تحریک انصا ف کوجلسہ کرنے کی پیشکش کرکے طے کرادیا ،دونوں جماعتوں کی طرف سے ایک ہی مقام پرجلسہ کرنے کی ضد کا نتیجہ پرتشدد کارروائیوں کی صورت میں برآمد ہوا تھا، پولیس نے حکیم سعید گرائونڈ میں ہنگامہ آرائی کامقدمہ سرکار کی مدعیت میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے 700کارکنوں کے خلاف درج کرلیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے انتشارکے بعد کراچی کے سیاسی خلاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرگرم تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی بھی اس وقت تشدد کی راہ پرچل پڑیں جب دونوں جماعتوں کے مابین 12 مئی کوایک ہی مقام حکیم سعید گرائونڈ گلشن اقبال پرجلسہ کرنے کی ضد پرتشددکارروائیوں کی شکل اختیارکرگئی پیراورمنگل کی شب دونوں جماعتوں کے کارکنان حکیم سعید گرائونڈ گلشن اقبال میں آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر پتھرائو کیا ۔

(جاری ہے)

مشتعل کارکنوں نے ایک دوسرے کے کیمپ اکھاڑ دیئے اور گرائونڈ کے باہر کھڑی موٹرسائیکلیں توڑ دیں جبکہ تشہیری مہم کے لیے کھڑے ٹرک اورتبدیلی ایکسپریس میں توڑپھوڑ کے بعد دوگاڑیوں کونذرآتش کردیا گیا۔۔گلشن اقبال میں ہنگامہ آرائی کے بعد دونوں جماعتوں کے سینئر کی جانب سے ایک ہی مقام پرجلسہ کرنے کے تنازع کوطے کرانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں جس کے بعد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو میدان میں آئے اورانہوں نے بذریعہ ٹوئیٹ تحریک انصاف کوحکیم سعید گرائونڈ میں جلسہ کرنے کی پیشکش کرکے جھگڑا ختم کرادیا،،بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو حکیم سعید گرائونڈ میں جلسہ کی پیشکش کے ساتھ ساتھ حکیم سعید گرائونڈ کے بجائے کسی اور جگہ جلسہ کرنے کا اعلان کردیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ کراچی ہمارا شہر ہے ، کہیں بھی جلسہ کرسکتے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ شب پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان کراچی کے حکیم سعید گرائونڈ میں جلسہ کرنے کے حوالے سے ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، اس دوران کاریں اور موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے کیمپس نذر آتش کردئیے گئے تھے۔دوسری جانب عزیز بھٹی تھانے میں سرکار کی مدعیت میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے 700 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،،پولیس کے مطابق مقدمے میں جلائو گھیرائو، توڑپھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں اورسی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کے بعد ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کومقدمہ میں نامزد کردیا جائے گا۔

علاوہ ازیں حکیم سعیدگرائونڈمیں ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے، جس میں پولیس اہلکار سرکاری اسلحہ سے فائرنگ کررہاہے، ویڈیو میں نظر آرہاہے کہ پولیس اہلکار گرائونڈ کے باہر یونیورسٹی روڈ پر ہوائی فائرنگ کر رہا ہے۔ویڈیو سے پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی تصدیق ہوتی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ فائرنگ پولیس اہلکاروں نے کی، رپورٹ کے مطابق فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکارتحریک انصاف کے رہنما علی زیدی کے ساتھ تھے۔

پی ٹی آئی رہنماعلی زیدی کوحکومت کی طرف سی2پولیس گارڈملے ہوئے ہیں، علی زیدی نے اپنے گارڈزکی جانب سے فائرنگ کی تصدیق کی ہے۔علی زیدی نے کہا کہ پولیس گارڈز نے مشتعل ہجوم سے بچانے کیلئے ہوائی فائرنگ کی۔۔پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔دونوں جماعتوں میں کشیدگی کے باعث اہل علاقہ محصور ہوکر رہ گئے تھے جبکہ علاقے میں ٹریفک معطل اور دکانیں بند ہوگئیں ۔

تحریک انصاف کے رہنماں فیصل واڈا اورخرم شیرزمان نے بلاول بھٹو کی جانب سے تحریک انصاف کوجلسہ کرنے کے لیے گرائونڈ مہیا کیے جانے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کی قیادت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے کراچی کے امن کودائو پرلگنے سے بچالیا ہے۔