گلشن اقبال میں کشیدگی برقرار حکیم سعید گراؤنڈ میں رینجرز کا جنرل ہولڈ اپ

کسی بھی قسم کی ممکنہ گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی پولیس اور رینجرز نے جلے ہوئے کیمپس اور گاڑیوں کو جائے وقوعہ سے ہٹا کر علاقے میں ٹریفک بحال کر دی

منگل مئی 23:51

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) گلشن اقبال میں گزشتہ روز پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں ہونے والے تصادم کے بعد منگل کو علاقے میں کشیدگی برقرار ہے ۔حکیم سعید گراؤنڈ کے رینجرز کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ کسی بھی قسم کی ممکنہ گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے ۔دونوں جماعتوںنے ایک دوسرے کے خلا ف ہنگامہ آرائی اور گڑبڑ کے مقدمات درج کرانے کے لیے عزیز بھٹی تھانے میں درخواستیں دے دی ہیں جبکہ منگل کو کمشنر کراچی کے دفتر میں اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں دونوں جماعتوں کی قیادت کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔

ذرائع نے کہا کہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں 12 مئی کو گلشن اقبال حکیم سعید گراؤنڈ میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

پیپلز پارٹی نے جبکہ جلسے کی باقائدہ اجازت لے رکھی ہے اس لیے امکان ہے کہ فیصلہ اس کے حق میں ہوگا ۔دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ ونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے عزیز بھٹی تھانے میں مقدمہ درج کرانے کے لیے درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں لیکن واقعہ مقدمہ ابھی تک درج نہیں ہوسکا ہے ۔

پولیس نے کہا کہ ابھی تک واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے ڈرافٹنگ ہوگئی ہے ۔ڈی آئی جی کی جانب سے اپر وول کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔قبل ازیں گزشتہ روز گلشن اقبال کے حکیم سعید گراؤنڈ میں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے ایک ساتھ جمع ہونے پر صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی اور تصادم کے دوران کیمپس اکھاڑنے کے علاوہ کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی ۔

پولیس اور رینجرز نے جلے ہوئے کیمپس اور گاڑیوں کو جائے وقوعہ سے ہٹایا جبکہ علاقے میں ٹریفک بھی بحال کرادی۔پیر کی شام ہونے والے واقعہ میں ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع کردیا اور گراؤنڈ کے باہر گھڑی موٹر سائیکلیں توڑ دیں ۔جبکہ مشتعل افراد نے موٹر سائیکلوں کو نزر آتش بھی کردیا ۔کارکنوں میں تصادم کے باعث دن بھر سے تماشہ دیکھنے والی پولیس تو علاقے سے غائب ہوگئی اور پھر صورتحال بگڑتے ہوئے دیکھ کر مزید نفری طلب کرلی گئی جس نے ہوائی فائرنگ کر کے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کی کوشش کی ۔

دونوں جماعتوں کے مشتعل افراد نے گاڑیوں کو آگ لگادی جبکہ 30 سے زائد گاڑیوں کے شیشے توڑے اور بعض کو نقصان پہنچا۔مشتعل کارکنان نے نجی ٹی وی کی ڈی ایس این جی وین کو پھتراؤ کرکے شدید نقصان پہنچا ۔پتھراؤ کے باعث گراؤنڈ میں موجود اہلکار سمیت 10سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔دونوں جماعتوں میں تصادم کے بعد علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا اور ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی اور رات گئے کھلی رہنے والی دکانیں بھی بند ہوگئی ۔

پولیس کی جانب سے کی جانے والی ہوائی فائرنگ کے باعث اہل علاقہ گھروں میں محصور ہورکر رہ گئے ۔ادھر پاکستان تحریک انصاف نے حکم سعید گراؤنڈپر اپنا کیمپ اکھاڑے جانے اور کارکنوں پر تشدد کے خلاف بلاول ہاؤس پر دھرنا دینے کا اعلا ن کیا ہے ۔وزیر داخلہ سندھ سہیل انورسیال اور پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا نے ایک ساتھی یونیورسٹی روڈ پر پہنچ کر میڈیا سے گفتگو کی اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ جلسے کے لیے اجازت نامہ ضروری ہے ۔

ایس ایس پی کے مطابق پہلے پی پی کی طرف سے 4مئی کو جلسے کے لیے درخواست دی گئی ۔شہر کے امن کو بحال رکھیں گے واقعات کی شفاف تحقیقات کریں گے ۔سہیل انور سیال اور فیصل واوڈا یونیورسٹی روڈ پہنچے دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی ۔وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے اس موقع پر کارکنوں سے اپیل کی کہ کارکنان گھروں کو واپس جائیں بڑی مشکلوں سے شہر کا امن واپس لائیں ہیں ۔جس وقت جھگڑا ہو ااس وقت ایس ایس پی اوردو ایس ایچ اوز موقع پر موجو د تھے ۔۔تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شہر کا امن بحال رہے ۔#