کے ایم سی کے 13 بڑے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے علیحدہ فنڈز کی ضرورت ہے، میئر کراچی

منگل مئی 21:20

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی کے 13 بڑے اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے علیحدہ فنڈز کی ضرورت ہے، سندھ حکومت فنڈز جاری کرے تو کے ایم سی کی کارکردگی بہتر ہوگی اور اس کا کریڈٹ صوبائی حکومت کو ملے گا،سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے ڈی سینٹرلائزیشن ضروری ہے، اسپتالوں کی حالت ٹھیک کرنے کے لئے مخیر حضرات سے بھی اپیل کی ہے، بحریہ ٹائون سمیت دیگر لوگ مدد کر رہے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تاریخ میں پہلی بار نرسنگ کے شعبے سے وابستہ عملے کی حوصلہ افزائی کے لئے میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈز دینے کی تقریب 11 مئی کو مقامی ہوٹل میں منعقد ہوگی۔

جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر میں عالمی نرسنگ ڈے کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن، چیئرپرسن معالجات کمیٹی ناہید فاطمہ، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بیربل ، پاکستان نرسز فورم کے چیئرمین سلیم مائیکل، مسز روزلن ڈینسل اوردیگر عہدیداران کے علاوہ کے ایم سی افسران بھی موجود تھے۔

میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے اسپتال ہمیں تباہ حال ملے تھے جنہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سندھ حکومت نے اسپتالوں میں دوائوں کی فراہمی کے لئے 17 کروڑ روپے دیئے ہیں جن سے غریب اور مستحق مریضوں کو ادویات فراہم کریں گے،عباسی شہید اسپتال میں آکسیجن پلانٹ نہیں تھا ، بحریہ ٹائون اس سلسلے میں ہماری مدد کر رہا ہے، وسائل محدود ہیں، ریونیو بڑھانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، کے ایم سی اسپتالوں میں نرسنگ ہوسٹلز کی حالت زار کا اندازہ ہے ، بجٹ اجازت دے گا تو تمام شعبوں میں بہتری لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فی 1069 افراد کے لئے صرف ایک نرس دستیاب ہونا سنگین مسئلہ ہے، بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے نرسوں کی تعداد کو بڑھانا ہوگا۔ میئر کراچی نے کہا کہ نرسنگ کا شعبہ کسی بھی ملک کے ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصہ تصور کیا جاتا ہے اس پیشے سے وابستہ افراد کی انسانیت کے لئے بے مثال خدمات کے اعتراف کے طور پر ہر سال 12 مئی کو دنیا بھر میں نرسز کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد صحت کے شعبہ میں نرسز کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، 12مئی1820ء جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائیٹ اینگل(Florence Nightingale) کا یوم پیدائش بھی ہے جس نے نرسنگ کے شعبہ میں قابل تقلید مثال قائم کی اور دنیا بھر میں ان کا نام نرسنگ کے پیشے کی شناخت بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ بیگم رانا لیاقت علی خان نے 1949ء میں پاکستان میں نرسنگ کے شعبہ کی بنیاد رکھی ، انہوں نے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر میں اس پیشے کو بہت عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں نرسز کو وہ عزت اور مرتبہ نہیں مل سکا جس کے وہ جائز طور پر مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی اپنی تاریخ پہلی مرتبہ ورلڈ نرسنگ ڈے منا رہی ہے اور اس موقع پر اچھی کارکردگی کے حامل نرسز کو میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈ دیئے جارہے ہیں تاکہ نرسز کی حوصلہ افزائی ہو ، آج تک اس شعبہ کی طرف نہ تو کوئی توجہ دی گئی اور نہ ہی ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ ان کی کارکردگی دہشت گرد حملوں، وبائی امراض اور قدرتی آفات سمیت انسانی صحت کو لاحق نئے خطرات کے پیش نظر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبہ کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے نرسز کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت سندھ کو مختلف اوقات میں خطوط بھی لکھے ہیں تاکہ ان کی پروموشن اور الائونسز کے مسائل حل ہوسکیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے 13 اسپتالوں اور مختلف ڈی ایم سیز اور کراچی کے دیگر اسپتالوں میں نرسز کو میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈ دے رہے ہیں جن کی نامزدگی میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی مخصوص کمیٹی نے کی ہے اس کے علاوہ شہر کے دیگر اسپتالوں میں نرسز اسٹاف کو بھی ایوارڈ دے رہے ہیں جن میں جناح اسپتال، سول اسپتال، NICVD ، آغا خان اسپتال، لیاقت نیشنل اسپتال، 7 ڈے اسپتال، ہولی فیملی، انڈس اسپتال، ٹبہ اسپتال اور دیگر اسپتال شامل ہیں، ان ایوارڈز کو دینے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ’’خدمت میں ہی عظمت ہے ‘‘۔

انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کے اسپتالوں میں طبی خدمات کی فراہمی کا معیار اس سے مزید بہتر ہوگا ، ہمارا ارادہ ہے کہ ہم آئندہ سال کراچی کے تمام اسپتالوںکے نرسنگ اسٹاف کو ان کی خدمت کے اعتراف میں میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈ دیںاس سلسلے میں پاکستان نرسز فورم اور ان کی ٹیم کا کردار بہت اہم ہے جنہو ںنے اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کے ایم سی کی مدد کی۔