چیئرمین نیب نے جس طرح چار ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت بھجوانے کی ایک اخباری خبر کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے‘ یہ ہمارے لئے تشویش اور دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے‘

یہ بہت اہم اور سنجیدہ مسئلہ اور دشمن ملک کو پیسے بھیجنے کا الزام ہے، اس کی تحقیقات کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو نیب کے چیئرمین کو طلب کرے اور ان سے اس معاملے کی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کرے تاکہ پاکستان کے عوام کے سامنے حقائق آسکیں‘ اپوزیشن کو پیشکش کرتے ہیں کہ نیب قانون کی جن ترامیم پر اتفاق رائے ہو چکا ہے وہ ایوان میں پیش کی جائیں ہم اس پر مباحثہ کے لئے تیار ہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

بدھ مئی 15:04

چیئرمین نیب نے جس طرح چار ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت بھجوانے کی ایک اخباری ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب نے جس طرح چار ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت بھجوانے کی ایک اخباری خبر کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے‘ یہ ہمارے لئے تشویش اور دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے‘ یہ بہت اہم اور سنجیدہ مسئلہ اور ایک دشمن ملک کو پیسے بھیجنے کا الزام ہے،, اس کی تحقیقات کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو نیب کے چیئرمین کو طلب کرے اور ان سے اس معاملے کی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کرے تاکہ پاکستان کے عوام کے سامنے حقائق آسکیں‘ اپوزیشن کو پیشکش کرتے ہیں کہ نیب قانون کی جن ترامیم پر اتفاق رائے ہو چکا ہے وہ ایوان میں پیش کی جائیں ہم اس پر مباحثہ کے لئے تیار ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس سے قبل اس ایوان کے اندر اور باہر کہا ہے کہ نیب کی وجہ سے ملک کے اندر جو حالات پیدا ہو رہے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں۔ نیب کا ادارہ سیاسی جماعتیں توڑنے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے ایک آمر نے بنایا تھا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اقتدار ملا اور ہم بھی حکومت میں ہیں تاہم بدقسمتی ہے کہ اتفاق رائے ہونے کے باوجود ہم نیب کا ایسا ادارہ نہ بنا سکے جو سیاستدانوں پر اثرانداز ہونے اور ان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی بجائے ملک میں کرپشن کے خلاف اپنا کردار ادا کر سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کر سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک ترمیم میں تین چار سال لگے اور اس پر اتفاق رائے بھی تھا تاہم اس کو ہم ہائوس میں پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی اس کی منظوری ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے فیصلے تو آنے والی حکومت نے کرنے ہیں۔ سابق وزیراعظم پر اس وقت نیب عدالتوں میں کیس چل رہا ہے وہاں سے انصاف کی توقع تو نظر نہیں آرہی۔ جس طرح سے وہ ٹرائل ہو رہا ہے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے اور انصاف ہونا بھی چاہیے۔

سابق وزیراعظم کی ہفتے میں چھ چھ پیشیاں اور بعض اوقات روزانہ تین تین پیشیاں ہو رہی ہیں۔ نیب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم شکایت نہیں کرتے تاہم یہ ریکارڈ کی چیزیں ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 8 مئی کو نیب کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں چیئرمین نیب نے سابق وزیراعظم اور دیگر کے خلاف چار ارب 90 کروڑ ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کی میڈیا رپورٹ پر تحقیقات کا حکم دیا۔

یہ کام ماضی میں ہوتے تھے کہ ایسے واقعات جن کا سر پیر نہیں ہوتا تھا ‘ ان کی بنیاد پر انتقامی کارروائیاں ہوتی تھیں‘ یہ ہمارے لئے تشویش اور دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ دنیا کیا سوچے گی کہ نیب کا چیئرمین کہہ رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نے چار ارب 90 کروڑ ڈالر بھارت بھجوائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پورا بجٹ 35 ارب ڈالر ہے۔

جب کسی ادارے کا سربراہ اس قسم کی بات کرے یا پریس ریلیز جاری کرے تو سوچیں اس ادارے میں اور کیا کام ہو رہے ہوں گے‘ یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ملک نہیں چل سکتا۔ اس قسم کے ادارے اور چیئرمین ہوں گے تو ادارہ کیسے انصاف کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ شرمندگی اس بات کی ہے کہ ان کا نام یہاں سے ہی میں نے اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اتفاق رائے سے بھیجا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارا حق اور ذمہ داری ہے کہ اس قسم کی باتیں ہوں تو عوام اور ہائوس کے سامنے ثبوت رکھے جائیں۔ یہ بہت اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور ایک دشمن ملک کو پیسے بھیجنے کا الزام ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ہائوس چیئرمین نیب کو طلب کرکے ان سے پوچھے کہ آپ کو یہ اختیار کس نے دیا ‘ اس کے آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں‘ اس کا ریکارڈ پیش کریں‘ اس طرح تو کسی پر بھی الزام لگایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدام قبل از انتخابات دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔ دو ماہ بعد عام انتخابات ہونے ہیں اور ملک کے سابق وزیراعظم پر یہ الزام لگایا گیا ہے جوکہ شرمندگی اور تشویش کا باعث ہے۔ وزیراعظم نے تجویز دی کہ رول 244 بی کے تحت خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے۔ کمیٹی نیب کے چیئرمین کو طلب کرے اور ان سے اس معاملے کی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کرے تاکہ پاکستان کے عوام کے سامنے حقائق آسکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب بھی اپوزیشن کو یہ پیشکش کرتے ہیں کہ نیب قانون کی جن ترامیم پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اس پر ایوان میں بحث کی جائے اور ایوان میں پیش کی جائیں ہم اس پر مباحثہ یا اجلاس کے لئے تیار ہیں۔