آمروں کے دور میں ایسا نہیں دیکھا جو اب ہو رہا ہے،چیئرمین نیب کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے-نوازشریف

پارٹی صدارت سے مجھے فارغ کیا اور تاحیات نا اہل کیا گیا، کبھی مارشل لا کے دور میں بھی ایسا نہیں ہوا‘ احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت جاری

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ مئی 12:25

آمروں کے دور میں ایسا نہیں دیکھا جو اب ہو رہا ہے،چیئرمین نیب کے معاملے ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آمروں کے دور میں ایسا نہیں دیکھا جو اب ہو رہا ہے، اس سے زیادہ حالات کیا خراب ہوں گے، آج سی ای سی کا اجلاس اسی لیے بلایا ہے۔۔میاں نواز شریف نے احتساب عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ چھوٹا نہیں کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔

ہم نے سی ای سی کا اجلاس بلایا ہے جس کامقصد چیئرمین نیب کامعاملہ زیر بحث لاناہے،موجودہ حالات پر گزشتہ روز وزیراعظم سے بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جویہ سب کررہے ہیں ان کاکام ہے کہ وہ ملک سے متعلق سوچیں،مجھے وزارت عظمیٰ سے محروم کیا گیا اور پارٹی صدارت سے تاحیات نااہلی کا فیصلہ بھی صادر کردیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیب کے طرف سے حالیہ پریس ریلیز کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اجلاس کا مقصد چیئرمین نیب والا معاملہ زیر بحث لانا ہے، یہ معاملہ چھوٹا نہیں ہے بلکہ بہت سنگین معاملہ ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ اس سے زیادہ حالات اور کتنے گھمبیر ہونگے، جو یہ سب کر رہے ہیں راستہ بھی انھوں نے ہی نکالنا ہے، پارٹی صدارت سے مجھے فارغ کیا اور تاحیات نا اہل کیا گیا، کبھی مارشل لا کے دور میں بھی ایسا نہیں ہوا۔واضح رہے نوازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن )کی سنٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کا اجلاس آج ہو گا۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف پنجاب ہاﺅس پہنچیں گے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اور مسلم لیگ( ن) کے اہم راہنما شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا،نون لیگ کے آئندہ کے لائحہ عمل اور انتخابی مہم کے بارے میں بھی بات ہو گی ،اس کے علاوہ وزیراعظم فاٹا اصلاحات پر پارلیمانی لیڈرز سے ہوئی ملاقات پربریفنگ دیں گے۔دوسری جانب احتساب عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔مسلم لیگ( ن) کے قائد نوازشریف احتساب عدالت میں موجود ہیں جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا بیان آج بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔واجد ضیاءنے احتساب عدالت میں نواز شریف کے مریم نواز نام جاری کردہ بینک چیکوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست 2016 کونواز شریف نے ایک کروڑ95 لاکھ کاچیک دیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 13جون 2015 کو نواز شریف نے مریم نوازکو 12ملین کا چیک دیا جبکہ 3 نومبر 2015 کونواز شریف نے مریم کو 2کروڑ88لاکھ کا چیک دیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یکم نومبر 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو 65 لاکھ کا چیک دیا، 10مئی 2015 کو نواز شریف نے مریم کو10کروڑ50 لاکھ کا چیک دیا۔واجد ضیاءنے کہا کہ 21نومبر 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو 18 لاکھ کا چیک دیا، 28جون 2015 کونواز شریف نے 3 کروڑ41 لاکھ 30ہزار625 کا چیک دیا۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ 15 مارچ 2015 کو نواز شریف نے مریم کوایک کروڑ 30 لاکھ کا چیک دیا جبکہ 6 فروری 2015 کو نواز شریف نے 6 کروڑ80 لاکھ کا چیک دیا۔جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ 4 ستمبر 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو2 کروڑ 29 لاکھ کا چیک دیا، 21 مئی 2015 کو نواز شریف نے مریم نواز کو 20 لاکھ کا چیک دیا۔