روس اور پاکستان کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری، دفاع، اقتصادی اور تجارتی تعلقات تیزی سے مستحکم ہو رہے ہیں،

دونوں ملکوں کے مابین حالیہ سالوں میں دوطرفہ تجارت میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے روسی سفیر الیکسی دیدوف کا روس کے قومی دن اور پاک روس سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر استقبالیہ سے خطاب

جمعہ مئی 17:49

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) پاکستان میں روس کے سفیر الیکسی دیدوف نے کہا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان ملٹری۔ٹو ملٹری، دفاع، اقتصادی اور تجارتی تعلقات تیزی سے مستحکم ہو رہے ہیں، دونوں ملکوں کے مابین حالیہ سالوں میں دوطرفہ تجارت میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز روس کے قومی دن اور پاک۔۔روس سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے کہی۔

وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ الیکسی دیدوف نے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ ملٹری ٹو ملٹری، دفاع اور تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان یکم مئی 1948ء کو نیویارک میں سوویت یونین کے وزیر خارجہ آندرے اے گرومیکو اور ان کے پاکستانی ہم منصب ظفر اللہ خان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات قائم کر دیئے گئے جس کے نتیجہ میں کراچی اور ماسکو میں دونوں ملکوں کے سفارتخانے کھول دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاو آئے تاہم 90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ الیکسی دیدوف نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان گزشتہ چند سال کے دوران دوطرفہ تجارت ایک تہائی اضافہ کے بعد 550 ملین ڈالر سالانہ سے بڑھ گئی ہے تاہم اس میں مزید اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔