سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے پر اراکین کو نکالا، ثبوت موجود ہیں،ہم غلط الزامات نہیں لگاتے،پرویزخٹک

ہفتہ مئی 23:24

سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے پر اراکین کو نکالا، ثبوت موجود ہیں،ہم غلط ..
نوشہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ بی آر ٹی پشاورصر ف آٹھ ماہ میں مکمل ہونے والا دنیا کا تیز ترین منصوبہ ہوگاجس پر کام رکا نہیں بلکہ تیزی سے جاری ہے، اس کے خلاف پروپیگنڈہ عوام دشمنی پر مبنی ہے ،بلین ٹریز سونامی صوبے اور ملک کے مستقبل کا منصوبہ ہے جس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ افسوسناک ہے۔

ساڑھے تین ہزار سائٹس انٹر نیٹ پر موجود ہیں،جو چاہے اپنی مرضی کی سائٹ کا انتخاب کرے، ہم دکھا دیں گے۔ نیب کی انکوائری میں ساوتھ ریجن کلیئر ہے باقی بھی کلیئر ہوجائیں گے، سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے پر اراکین کو نکالا جسکے ثبوت موجود ہیں،ہم غلط الزامات نہیں لگاتے، الیکشن وقت پر ہوں گے ،تاخیر کی کوئی وجہ نہیں،صرف سیٹیں جیتنے کیلئے اتحاد دھوکہ دہی ہے میں اسکے خلاف ہوں۔

(جاری ہے)

موجودہ خیبر پختونخوا کاپانچ سال پہلے کے خیبر پختونخوا سے موازنہ کر کے صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھی جا سکتی ہے،خیبرپختونخواحکومت نے ماضی کے بدحال صوبے کوٹھیک کیااور خدمات کی فراہمی کیلئے اداروں میںشفاف نظام دیاجسکو پائیدار بنانے کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی،ایبٹ آباد ،کالام،چترال اور ناران میں سیاحت کی ترقی کیلئے ڈیڑھ ارب روپے خرچ کیے گئے ،ہم نے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کیا تھا بلکہ الیکشن کے بعد دونوں پارٹیوں کے منشور میں موجود مشترکہ نکات کی بنیاد پر حکومتی اتحاد کیا تھا جو کامیاب رہا،آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں پہلے سے دوگنی نشستیں جیتے گی تا ہم پورے پاکستان میں اس وقت جو رجحان نظر آ رہا ہے اس سے واضح ہے کہ قوم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

ان خیالات کااظہار انہوںنے یونین کونسل پہاڑی کٹی خیل کے گائوں کٹی خیل میں جلسے اور معراجی بالا میں ویلج ناظم سلارم خان کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ اورمیاں ہمایوں شاہ کاکاخیل خادم اعلیٰ زیارت کاکاصاحب کے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ضلع ناظم لیاقت خٹک ، ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک اورناظم ویلج کونسل سلارم خان ،سردار خان ،گلریزخان، راجہ خان ،شبیر خٹک اور محمد خان نے بھی جلسے سے خطاب کیا جبکہ دیگر مقامی نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

اس موقع پر میاں ہمایوںشاہ کاکاخیل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک میرے اور میری پوری برادری کی پسندیدہ شخصیت اور ہمارے بزرگ ہیں اور 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کاذ کر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس تباہ حال سسٹم کو تبدیل کرنے کیلئے سب سے پہلے قانون سازی کی ،یہ واحد پارٹی ہے کہ جس نے اپنے منشور پر کام کیا،ہم نے عوام سے نظام کی تبدیلی کاوعدہ کیا تھا ، بہتر تعلیمی نظام دینا ، بہتر صحت دینا، پولیس کو ٹھیک کرنا، پٹوار کلچر کو ٹھیک کرنا اور میرٹ کا نظام لانا یہ ہماری کمٹمنٹ تھی جس کو پورا کرنے کے لیے دیرپا اقدامات کیے۔

صرف پینتیس ارب روپے تو پرائمری سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے خرچ کیے۔۔غریب کے بچے کو امیر کے مقابلے میں لانے کے لیے انگلش میڈیم کا اجرا کیانہ صرف نئے کالجز،یونیورسٹیاں اور سکول بنائے بلکہ پہلے سے موجود اداروں کو بھی ٹھیک کیا۔انہوںنے شعبہ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 65 سالوں میں صرف تین ہزار ڈاکٹرز موجود تھے جبکہ ہم نے صرف پانچ سالوں میں ڈاکٹرز کی تعداد 8 ہزار کر دی ۔

ڈاکٹرز کی حاضری کا کوئی تصور موجود نہیں تھا ہم نے حاضری کا نظام دیا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت کے بعض پراجیکٹس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ بھی کیا جارہا ہے، بی آرٹی کے خلاف پروپیگنڈہ سیاسی ہے مخالفین کے پاس دائو پیچ کم پڑتے جارہے ہیںہماری حکومت کو ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوئی ہے ۔ انہوںنے بلین ٹری سونامی کا خصوصی طور پر حوالہ دیا اور کہاکہ ساڑھے تین ہزار سپاٹس ہیں اور ہر سپاٹس پرہزاروں درخت لگائے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر موجود ہیں،جو دیکھنا چاہتا ہے وہ آنکھیں بند کرکے اپنی مرضی سے سائٹ چن لے اور کہے یہ سائٹس مجھے دکھائو۔

ہم اُس سائٹ پر اُس کو لے جاتے ہیں اور پھر بتائے کہ ہم سچ بول رہے ہیں کہ جھوٹ فیصلہ ہو جائے گا۔انہوںنے کہاکہ لوگ یہ کیس نیب لے گئے اورنیب خود انکوائری کر رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اب نیب سے ساوتھ ریجن کلیئر ہو گیا ہے اور ہزارہ ڈویژن میں وہ ساری سائٹ دیکھ رہے ہیں اور باقی سائٹ بھی کلیئر ہو جائیں گی ۔۔ سیاحت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ سیاحت کی جو آمدن ہو تی ہے وہ حکومت کو نہیں آتی بلکہ اُس سے براہ راست لوگ مستفید ہوتے ہیں،جہاں سیاحت بڑھتی ہے وہاں لوگوں کا کاروبار بھی بڑھتا ہے ۔

اُن کی زندگی تبدیل ہو تی ہے ۔ماضی میں نتھیاگلی میں تجاوزات کی بھر مار تھی، راستے بند تھے، سڑکیں صحیح نہیں تھیں ہم نے وہ ٹھیک کئے اب ایک خوبصورت اور بین الاقوامی سٹینڈر کے مطابق نتھیاگلی موجود ہے ۔اسی طرح کالام جو ماضی میں گندگی سے بھرا ہوا تھا اُس کے روڈ، اُس کا انفراسٹرکچر ٹھیک کیا اب ایک خوبصورت کالام بن چکا ہے چترال اورناران کا انفراسٹرکچر بہتر کیا ۔

وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی میں شفافیت کی بالاد ستی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جن اراکین نے سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچے اُن کو ثبوتوں کی بنیاد پر نکالا گیا ۔ عمران خان نے کہا ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ جو ثبوت دیکھنا چاہتا ہے تو آکے دیکھ لے ،وہ اراکین اگر کورٹ جائیں گے اور مقدمہ کریں گے تو ہم وہ ثبوت سامنے لے آئیں گے ۔ہم نے تو کہہ دیا ہے کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں جو کوئی چاہے آکر دیکھ لے، ہم نے ایسے ہی غلط الزامات نہیں لگائے،لوگوں کو ہم نے اعتماد میں لے لیا ہے کہ ان لوگوں نے پیسے لئے ہیں ۔

صاف ظاہر کہ ہمیں انہوںنے ووٹ نہیں دیا تو یہ ووٹ کدھر چلے گئے۔ہمیں جو ووٹ ملے ہیں اُن میں 17 یا 18 ووٹ غائب ہیں۔آئندہ انتخابات میں حکمت عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پرویزخٹک نے کہاکہ الیکشن وقت پر ہوں گے آئین میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے، جماعت اسلامی کے ساتھ حکو متی اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہم نے جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کیا تھا بلکہ الیکشن کے بعد جب ہمارا جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد ہوا تو ہم نے ایک معاہدہ طے کیااور مختلف نکات پر اکھٹے ہوئے ۔

وہ نکات ہمارے منشور میں بھی تھے اور اُن کے منشور میں بھی تھے۔اُس کے مطابق ہم نے پانچ سال اکھٹے گزارے اور ہمیں بڑی خوشی رہی کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک حکومت چلاتے رہے اور کوئی جھگڑا بھی نہیں رہا اور ہم نے ملکر صوبے کی خدمت کی ۔وزیراعلیٰ نے آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی صوبے میں پہلے سے دو گنا زیادہ طاقت کے ساتھ جیتے گی جبکہ ملک میں موجودہ رجحانات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پورے ملک میں عوام پی ٹی آئی کاساتھ دینگے ۔