موجودہ حالات میںنفرت وتعصب اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے ملی یکجہتی کونسل کا فعال ہونا ضروری ہے، مولانا عبدالحق ہاشمی

اتوار مئی 21:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ موجودہ حالات اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے ،نفرت وتعصب اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے ملی یکجہتی کونسل کا فعال ہونا ضروری ہے ،،بلوچستان بلخصوص صوبائی دارالحکومت میں ٹارگٹ کلنگ اتحا دویکجہتی کی فضاکو خراب کرنا اور فرقہ واریت وتعصب ونفرت کو ہوا دینا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔

ملی یکجہتی کونسل میں ہرمکتب فکر کے علماء شامل ہیں امریکہ واسلام دشمن قوتیں مسلم ممالک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اکثرمسلم حکمرانوں کی کارکردگی امت کو متحد کرنے اوردشمن کی سازشیں ناکام بنانے کے حوالے سے ٹھیک نہیں پاکستان میں بھی دہشت گردی امریکہ کی سرپرستی میں ہورہی ہے۔ ملی یکجہتی کونسل بلوچستان کے صوبائی ذمہ داران اجلاس جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں زیر صدارت نومنتخب صوبائی صدر مولاناعبدالحق ہاشمی منعقد ہوا اجلاس میں جماعت اسلامی،، جمعیت علماء پاکستان ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ،مجلس وحدت المسلمین ،،جمعیت اتحاد العماء کے رہنمائوں نے شرکت کی اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانامیر عبدالقدوس ساسولی ، سنیئر نائب صدرمولانا انوار الحق حقانی ،نائب صدر علامہ جمعہ اسدی ، نائب صدر علامہ سید ہاشم موسوی ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ولی خان شاکر سمیت علمائے کرام مولانا محمد عارف دمڑ، مولانا عبدالحمیدمنصوری ، مولوی رحمت اللہ موسیٰ خیل ودیگر نے شریک رہے ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سابقہ کاروائی وعمل درآمد پیش کی گئی اورآئندہ لائحہ عمل رمضان المبارک میں کرنے کے کام کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گئے اس موقع پر شرکاء نے نومنتخب صوبائی صدر مولانا عبدالحق ہاشمی کو مبارکباد یتے ہوئے استقامت کی دعاکی ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا انوار الحق حقانی ، علامہ ہاشم موسوی ، علامہ جمعہ اسدی اور مولانا عبدالقدوس ساسولی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام دین اسلام کی اشاعت واشاعت کیلئے پوری دنیامیں پھیل گیے تھے ملی یکجہتی کونسل اتحاد یکجہتی مشاورت کا اہم فورم ہے۔

رمضان المبارک سوچھنے سمجھنے ،غور وفکر ،تدبروعقل مندی کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت ومشق کراتی ہیں رمضان المبارک سے مکہ ومدینہ اور پوری اسلامی تاریخ جڑی ہوئی ہیں ہمیں رمضان المبارک کے ان نیک لمحات میں سوچھنا اور فکر ونظرکے نئے زاویے ودریچے کھولنے ہونگے کیونکہ جب تک مسلم سوسائیٹی ازسرنوغوروفکر اور اجتہادوتبدیلی کے راستے سے گزرکر عمل ورویئے میں سیرت مصطفوی کی احیاء وزندگی کاراستہ اختیار نہیں کر پاتی ۔

انسانیت کے سلگتے مسائل حل نہیں ہونے ہیں کیونکہ وحی الٰہی اور آخری نبی ؐ کی تعلیمات ہی آج کے دو رجدید کے انسانوں کے پیچیدہ نفسیاتی ،اخلاقی ،عملی اور کاروباری مسائل ومشکلات کا پائیدار حل دے سکتی ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل جس کے تحت فرقہ واریت ،تعصب ،نفرت ومنکرات کے خلاف جدوجہد کی جائیگی اور اتحاد میں وسعت وبہتری لائی جائیگی ۔