متحدہ عرب امارات نے عسکری حکمت عملی کے تحت یمن میں فوجیں اتار دیں

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 12:38

متحدہ عرب امارات نے عسکری حکمت عملی کے تحت یمن میں فوجیں اتار دیں
ابو ظہبی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مئی۔2018ء) متحدہ عرب امارات نے خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرو رسوخ کو کنٹرول کرنے اور داعش کے خلاف عسکری حکمت عملی کے تحت گزشتہ ہفتے یمن میں اپنے فوجیوں سمیت عسکری سازو سامان اتار دیا ہے۔عرب نشریاتی ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے یمن اور سومالیہ میں بیس قائم کرنے اور فوجیوں کو تعینات کرنے کے لئے متحرک ہے۔

یمنی حکومت نے الزام عائد کیا کہ عرب امارات نے ان کے اسکورٹارا جزیرے اور اس کے ایئرپورٹ پر قبضہ کرلیا اوراماراتی جزیرے سے کمرشل اور سیکورٹی مفادات’ کا وسیع گیم کھیلیں گے جس کے مقاصد میں یمن کو اپنی نوآبادیات میں تبدیل کرنا بھی ہے۔۔یمن کے حکومتی ذرائع کے مطابق یو اے ای کو یمن سے کچھ نہیں ملے گا، یمن کے شہری غریب ہیں لیکن وہ اپنی خود مختاری کے لیے لڑائی لڑیں گے۔

(جاری ہے)

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا کہ وہ یمن کی حکومت کا احترام کرتے ہیں اور امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور جزیرے کے رہائشیوں کے لیے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے بحیرہ احمر (ریڈ سی) کی ساحلی پٹی پر مقامی آرمی کے یونٹس قائم کرلیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اپنی فوج کو بہتر خطوط پر استوار کرنے کے لیے آسٹریلیا کی اسپیشل فورسز کے سابق جنرل مائیک ہینڈ مارش کی خدمات حاصل کی ہیں۔

مغربی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات دشمنوں کے خلاف لڑائی کو خطے میں پھیلانا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس مئی میں ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دیگہان نے کہا تھا کہ ایران کا سعودی شہزادے کو مشورہ ہے کہ وہ ایسی حماقتوں سے باز رہیں ورنہ سعودیہ میں دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔۔سعودی عرب کے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ایسا کرنے کی کوشش کیسے کریں گے، کیونکہ انہیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ اس کے لیے انہیں طاقتور فضائی فوج کی ضرورت ہے۔

سعودی شاہی خاندان کے طاقتور ترین شہزادے محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ مل بیٹھنے کا کوئی نقطہ موجود نہیں، کیونکہ تہران کا بنیادی مقصد سعودی بادشاہت کو نقصان پہنچانا۔