جب تک عوام کی خدمت نہیں ہو گی تو جمہوریت کی بقاء بھی خطرے میں ہو گی ‘چیئر مین نیب

وہ ملک ترقی نہیں کر سکتے جو جمہوریت کے لبادے میں کرپشن کو فروغ دیں‘ جمہوریت کا بنیادی مقصد ہی عوام کی خدمت ہے نیب کا یہ آخری فیصلہ ہے اب کرپشن کو فروغ نہیں دینے دے گا، نیب کی کوئی امتیازی یا تعصب کی پالیسی نہیں،ستر سال بعد عوام میں بھی شعور پیدا ہو چکا ہے کہ غلط کیا ہے اور درست کیا ہے‘نیب کو اختیارات مقننہ نے دیئے ، تشریح مختلف عدالتوں نے کی ، کوئی چیز ماورائے قانون نہیں ہو گی‘ جسٹس (ر)جاوید اقبال کا نیب لاہور میں ماڈل ہائوسنگ انکلیو کے سینکڑوں متاثرین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

جمعہ مئی 21:54

جب تک عوام کی خدمت نہیں ہو گی تو جمہوریت کی بقاء بھی خطرے میں ہو گی ‘چیئر ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جب تک عوام کی خدمت نہیں ہو گی تو جمہوریت کی بقاء بھی خطرے میں ہو گی ،وہ ملک ترقی نہیں کر سکتے جو جمہوریت کے لبادے میں کرپشن کو فروغ دیں‘ جمہوریت کا بنیادی مقصد ہی عوام کی خدمت ہے نیب کا یہ آخری فیصلہ ہے کہ اب کرپشن کو فروغ نہیں دینے دے گا، نیب کی کوئی امتیازی پالیسی نہیں اس کے ذہن میں کوئی تعصب نہیں،ستر سال بعد عوام میں بھی شعور پیدا ہو چکا ہے کہ غلط کیا ہے اور درست کیا ہے‘نیب قوم اور ریاست کا ادارہ ہے اسے کسی نے باہر سے مسلط نہیں کیا ، اسے اختیارات مقننہ نے دیئے ہیں اور اسکی تشریح مختلف عدالتوں نے کی ہے ، کوئی چیز ماورائے قانون نہیں ہو گی ،بشمول میرے تمام اکابرین کو قانون کے مطابق کام کرنا ہے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں ہے ، ستر سال بعد عوام میں بھی شعور پیدا ہو چکا ہے کہ غلط کیا ہے اور درست کیا ہے ،کچھ لوگوں کو آپ ساری عمر کے لئے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن آپ سب کو ساری عمر کے لئے بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب لاہور میں ماڈل ہائوسنگ انکلیو کے سینکڑوں متاثرین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم بھی موجود تھے۔ انہوںنے نیب لاہور کی تقریب میں ماڈل ہائوسنگ انکلیو کے 190متاثرین میں 24کروڑ ،67لاکھ 82ہزار روپے تقسیم کئے ۔۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ہم نے ڈبل شاہ کو سنگل شاہ بنادیا، 9ارب روپے کے فراڈ میں سے 4ارب روپے متاثرین کو واپس کئے ۔

ڈبل شاہ کیس کے دوسرے ملزم تصور گیلانی کے ذمہ 1.9ارب روپے میں سے 1.2ارب روپے کی رقم متاثرین کو واپس لوٹا دی ہے جبکہ ایلیٹ ٹائون ہائوسنگ سکیم لاہور کے متاثرین کے 10کروڑ بمعہ منافع /سود کے 36کروڑ روپے واپس لو ٹا دئیے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نیب لاہور ہائوسنگ سیکٹر کے تقریباً 3 لاکھ متاثرین میں سے 18ارب روپے سے زائد واپس لوٹا چکا ہے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے پرکشش اشتہارات کا ریگولیٹرز کو قبل ازوقت نوٹس لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ متعلقہ سوسائٹی جوان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے نے ان سے این او سی یا پھر لے آئوٹ پلان منظور کروایا ہے ، سوسائٹی کے پاس عملی طور پر زمین ہے یا صرف خواب ۔انہوںنے کہاکہ رزق حلال میں ہمیشہ برکت ہوتی ہے چند دنوں میں عوام کی عمر کی جمع پونجی لوٹنے والوں اورکروڑ پتی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کفن کی کوئی جیب نہیںہوتی اور جو لوگ بھی اس سے رخصت ہوئے و ہ خالی ہاتھ رخصت ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب کسی سے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا ۔ نیب تمام شکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز مبینہ طور پر الزامات کی بنیاد پر قانون کے مطابق شروع کرتا ہے جو کہ حتمی نہیںہوتیں ، نیب قانون کے مطابق تمام متعلقہ اداروں اورافراد سے ان کا موقف معلوم کرتا ہے اور اگرمبینہ طور پر الزامات ثابت نہیں ہوتے توشکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز مروجہ قوانین کے تحت بند کردی جاتی ہیںاور جس طرح کسی شکایت کی جانچ پڑتال ،انکوائری او رانویسٹی گیشن شروع کرنے کا فیصلہ نیب کی پریس ریلیز کے ذریعے کیا جاتا ہے اسی طرح شکایت کی جانچ پڑتال،انکوائری اور انویسٹی گیشن بندکرنے کا فیصلہ بھی نیب پریس ریلیز کے ذریعے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد کرتا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کسی سے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا ،نیب قوم اور ریاست کا ادارہ ہے اسے کسی نے باہر سے مسلط نہیں کیا ، اسے اختیارات مقننہ نے دیئے ہیں اور اسکی تشریح مختلف عدالتوں نے کی ہے ، کوئی چیز ماورائے قانون نہیں ہو گی ،بشمول میرے تمام اکابرین کو قانون کے مطابق کام کرنا ہے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں ہے ، ستر سال بعد عوام میں بھی شعور پیدا ہو چکا ہے کہ غلط کیا ہے اور درست کیا ہے ،کچھ لوگوں کو آپ ساری عمر کے لئے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن آپ سب کو ساری عمر کے لئے بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی کوئی امتیازی پالیسی نہیں اس کے ذہن میں کوئی تعصب نہیں ، وہ قافلے جن کو اپنی منزل کا پتہ ہوتا ہے وہ رواں دواں رہتے ہیں اور ایک دن آتا ہے جب وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ جمہوریت کا بنیادی مقصد ہی عوام کی خدمت ہے ، جب تک عوام کی خدمت نہیں ہو گی جمہوریت کی بقاء بھی خطرے میں ہو گی اور جمہوریت اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتی ہے ،وہ ملک ترقی نہیں کر سکتے جو جمہوریت کے لبادے میں کرپشن کو فروغ دیں ، یہ آخری فیصلہ ہے کہ نیب اب کرپشن کو فروغ نہیں دینے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائیکورٹ کے فیصلے موجود ہیں اور یہ طے پا گیا ہے کہ ہمارا ہر قدم سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی گائیڈ لائن اور رہنمائی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو گا کہ کوئی بھی ایسا اقدام نہ کیا جائے کہ کوئی یہ سمجھے کے ماورائے قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ جب بھی تفتیش مقصود ہو تو چائے پلانے کے بعد اگر یہ پوچھ لیا جائے کہ آپ تو امین تھے قوم کی دولت آپ کے پاس تھی آپ اس کے کسٹوڈین تھے یہ کہاں کیسے اور کیوں خرچ کی تو زیادتی کی بات نہیں ، اگر آپ کا دامن صاف ہے تو آپ بڑے اطمینان سے بتادیں کہ یہ رقم ہے اور اس منصوبے پر خرچ ہوئی ہے ۔

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے نیب لاہور کی کارکردگی کو ڈی جی نیب لاہور کی زیر نگرانی سراہا اور امید ظاہر کی کہ نیب لاہور کے افسران /اہلکار مستقبل میں بھی اسی محنت ، لگن اور دل جمعی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے ۔