مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی، بیرسٹر افتخار گیلانی

قتل و غارت گری، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی مقتدر حلقوں ،عالمی برادری اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی جانب سے خاموش تماشائی بنے رہنا انتہائی افسوسناک ہے،وزیر تعلیم آزاد کشمیر

ہفتہ مئی 18:50

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں پر قتل و غارت گری، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی مقتدر حلقوں ،عالمی برادری اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی جانب سے خاموش تماشائی بنے رہنا انتہائی افسوسناک ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی قابض افواج نے نام نہاد سکیورٹی و سرچ آپریشن کے نام پر معصوم و نہتے کشمیریوں کو دن دھاڑے شہید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غلط بیانی کرتے ہوئے عالمی برادری کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف ان آپریشنز کے تحت کارروائی کر رہا ہے حالانکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے اور بھارتی قابض افواج معصو م و غیر مسلح کشمیریوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں سر عام قتل کر رہی ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ کی سروسز کو بند کر رکھا ہے تاکہ مظلوم کشمیریوں کی آہ وبکاہ عالمی دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ جموں کشمیرکے موقع پر دارالحکومت مظفرآباد میں پاسبان حریت جموں کشمیر اور انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

مظاہرے سے پاسبان حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی، انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر کے وائس چیئرمین مشتاق الاسلام، پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما شوکت جاوید میر، تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین عبدالعزیز علوی، سابق چیئرمین ایم ڈی اے زاہد امین، کمانڈر محمد اعظم، کشمیر لبریشن سیل کے راجہ سجاد لطیف، تاجر رہنما عبدالرزاق خان نے بھی خطاب کیا ۔

مظاہرے میں سیاسی جماعتوں کے قائدین ،سیاسی و سماجی رہنمائوں ، وکلاء برادری، علمائے کرام ، تاجر کمیونٹی اور خواتین سمیت طلباء و طالبات کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔ اس موقع پر برہان مظفر وانی چوک سے گھڑی پن تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں شرکاء نے بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی ، بھارتی جبری حاکمیت کیخلا ف اور آزادی کے حق میں نعرے درج تھے۔راٹھور