افغانستان میں 2017 ء کے دوران افیون کی کاشت میں غیر معمولی اضافہ ہوا،اقوام متحدہ

منگل مئی 11:20

اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 2017 ء کے دوران افغانستان میں افیون کی کاشت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2017 ء میں 3 لاکھ 28 ہزار ہیکٹر رقبے پر جبکہ 2016ء میں 2 لاکھ ایک ہزار ہیکٹر رقبے پر افیون کاشت کی گئی تھی۔۔افغانستان کی وزارت برائے انسدادِ منشیات اور جرائم کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے کیے گئے سالانہ مشتر کہ سروے ’’افغانستان افیون سروے 2017ء ’’ پائیدار ترقی ، امن اور سکیورٹی کے لئے چیلنج ‘‘ کے مطابق دو ہزار سولہ اور سترہ کے درمیان افیون کی کاشت کے رقبے میں ایک لاکھ ستائیس ہزار ہیکٹر کا اضافہ ہوا۔

رقبے میں یہ اضافہ دو ہزار نو اور دو ہزار دس کی سالانہ افیون کاشت سے بھی زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

افیون کی پیداوار کے تمام بڑے صوبوں میں اس کی کاشت میں اضافہ ہوا ، صرف صوبہ ہلمند میں اس کی کاشت کے رقبے میں 63 ہزار 700 ہیکٹر کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افیون کے زیرکاشت رقبے میں اضافے اور اچھی پیداوار کی وجہ سے افیون کا پیداواری حجم 2016ء کے مقابلے میں دگنا ہو گیا۔ رپورٹ میں امنِ عامہ کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام ، حکومتی عملداری کا فقدان اور سیکورٹی کی کمی کو غیر قانونی پیداوار میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا گیاہے۔