امریکہ میں سبیکا شیخ کی میزبان ماں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں

ہمارے اپنے کوئی بچے نہیں ہیں،سبیکا شیخ پہلی بچی تھی جس نے ہمیں امی ابو کہہ کر پکارا تھا،وہ بلکل ہماری اپنی بیٹی جیسی تھی، امریکہ میں سبییکا شیخ کی میزبان ماں عظمی پروین کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل مئی 16:27

امریکہ میں سبیکا شیخ کی میزبان ماں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔22 مئی 2018ء) امریکی ریاست ٹیکساس میں روزے کی حالت میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی موت نے ہر پاکستانی کو غم سے نڈھال کر دیا ہے۔سبیکا کے والد ین ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکے کہ ان کی ذہین بیٹی اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق عظمی پروین نامی خاتون امریکہ میں سبیکا شیخ پہلی میزبان ماں تھیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے عظمی پروین اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اپنے کوئی بچے نہیں ہیں۔سبیکا شیخ ہماری پہلی بچی تھی۔جس نے ہمیں امی ابو کہہ کر پکارا تھا،وہ بلکل ہماری اپنی بیٹی جیسی تھی۔سبیکا شیخ بہت کچھ بننا چاہتی تھی۔اور وہ مشہور ہونا چاہتی تھی۔لیکن ایسے نہیں۔

(جاری ہے)

میں اس کی تصویر اس طرح سے ٹی وی پر نہیں دیکھنا چاہتی ،میں سبیکا کو متاثرین میں سے ایک کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتی۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں اسکول میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی نماز جنازہ ہیوسٹن کی ایک مسجد میں اتوار کو ادا کر دی گئی۔ سبیکا کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر مسجد لایا گیا تھا۔ سبیکا کی نماز جنازہ میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔یاد رہے کہ سبیکا عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگریوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکہ گئی تھی،اور 9 جون کو سبیکا شیخ کو پاکستان واپس آنا تھا۔

وہ ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ایک ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔یہاں سبیکا اسکول کے ہی ایک طالب علم کی فائرنگ سے چل بسی۔۔۔فائرنگ کے نتیجے میں 9 طالب علموں اور ایک استاد سمیت 10 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔۔۔فائرنگ کرنے والے طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا تھا جو اسی اسکول کا طالب علم تھا۔
امریکہ میں سبیکا شیخ کی میزبان ماں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں