یورپی یونین ہم جنس پرستی:یورپی یونین کا ممبر ممالک پر قانون لاگو کرنے کیلئے دبائو

پولینڈ ، رومانیہ ، سلوواکیہ، بلغاریہ ، لیتھوانیا، نے ہم جنس پرستی کے قوانین کی مخالفت کی تھی پاکستان میں ایسے قوانین کی نہ صرف معاشرہ مخالفت کرتا ہے بلکہ کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا،کامران مائیکل

منگل مئی 18:38

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) یورپی یونین نے ہم جنس پرستی سے متعلق قوانین ، دیگر ممبر ممالک پر بھی لاگو کرنے کیلئے دبائو ڈالنا شروع کردیا ہے۔ ہم جنس پرستی کوغیر قانونی قراردینے والے یورپی یونین کے ممبر ممالک کو عدالت سے پابند کیا جارہا ہے کہ وہ ہم جنس پرستی سمیت دیگر غیراخلاقی قوانین پر عمل درآمد کریں۔۔پاکستان میں یورپی ممالک سے ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ یورپی یونین میں بہت سے غیراخلاقی قوانین کو منظور کیا گیا ہے البتہ جن ممالک نے ان کی مخالفت کی ہے انہیں وہی قوانین اپنے ممالک میں رائج کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی عدالت کی جانب سے ہم جنس کی شادیوںکو قانونی حیثیت دینے کے بعد اس قانون کے مخالفت کرنے والے ممالک کو مجبور کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

ان کی مخالفت کی وجہ سے یورپی یونین ان ممالک کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ ہم جنس پرستی کی مسیحیت میں سختی سے منع کیا گیا ہے اور بائبل میں اس سے متعلق بہت سے حوالے موجود ہیں ۔

جبکہ ایسے قوانین سے پوری دنیا میں مسیحیت کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ واضع رہے کہ یورپی یونین کے ممالک جن میں پولینڈ ، رومانیہ ، سلوواکیہ، بلغاریہ ، لیتھوانیا، نے ہم جنس پرستی کے قوانین کی مخالفت کی تھی۔جبکہ جرمنی سمیت بعض ممالک کے اندر مذہبی راہنمائوںنے ایسے قوانین کی مخالفت کی اور انہیں غیر اخلاقی قراردیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ہم جنسی کے متعلق قوانین پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔

جبکہ اس کے برعکس اسکاٹ لینڈ کے چرچ نے اس قانون کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا،اس کے علاوہ سویڈن کی آرچ بشپ جو اس قانون کی حمایت کا اعلان کرچکی ہے ، گزشتہ دنوںتین روزہ دورہ پر پاکستان کے مختلف چرچز کا دورہ کرچکی ہیں۔ پاکستان میں رومن کاتھولک سمیت دیگر مذہبی راہنماء اس قانون کی سختی سے مخالفت کرچکے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے شماریات سینیٹر کامران مائیکل اس سلسلے میں سختی سے مخالفت کرچکے ہیں، انہوںنے آن لائن کو بتایا کہ پاکستان میں ایسے تمام قوانین کی نہ صرف معاشرہ مخالفت کرتا ہے بلکہ مسیحیت میں ایسے کاموں کی کوئی گنجائش نہیںہے۔ ۔۔۔۔۔