سینٹ ،ْوزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سابق سربراہان کی مشترکہ کتاب کے معاملے پر جواب طلب

جمعہ مئی 16:26

سینٹ ،ْوزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جنس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) چیئرمین سینیٹ سینیٹر صادق سنجرانی نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے پاکستان اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سابق سربراہان کی مشترکہ کتاب کے معاملے پر جواب طلب کرلیا۔ جمعہ کو اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ آئے دن لائن آف کنٹرول پر بھارت خلاف ورزیاں کر رہا ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بھی پوری دنیا کے سامنے ہے، فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی دنیا نوٹس نہیں لے رہی، لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی بھارتی گولہ باری کا نشانہ ہے، یہ اچھنبے کی بات ہے کہ چار یا پانچ دن پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی ایجنسی کے ان کے ہم منصب کی ایک کتاب کی خبریں آئیں، اب اس کے اقتباسات بھی سامنے آ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ایک طرف دونوں ملکوں کے تعلقات کی یہ حالت ہے۔ کیا وفاقی حکومت یا اس کے ادارے کسی اسٹیج پر جنرل درانی نے ’’را‘‘ کے چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے کی اجازت لی تھی، اگر اجازت نہیں مانگی تو کیا آگاہ کیا تھا۔ وزیر قانون نے کہا کہ وزیر دفاع سے اس کا جواب لیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس پر وزارت دفاع جواب دے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ کتاب میں جو انکشافات کئے گئے ہیں ہمیں ان کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔

چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے پر وزارت داخلہ سے جواب لے لیتے ہیں۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر جواب طلب کرلیا۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اس سے پاکستان میں پانی کے ذخائر میں کمی آئے گی، حکومت اس پر جواب دے، اس کے علاوہ عالمی بینک سے مذاکرات ہوئے ہیں، ان کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے اس پر جواب طلب کرلیا۔