کراچی، متحدہ مجلس عمل عوام کیلئے امید نو بنے گی، لیاقت بلوچ

ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے نظام مصطفٰی کا نفاذ کریں گے، نظام مصطفٰیؐ کے نفاذ میں ہی ہمارے مسائل کا حل ہے، پوری قوم کی امیدیں ایم ایم اے پر ہیں،جنرل سیکریٹری متحدہ مجلس عمل

جمعہ مئی 23:28

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) جنرل سیکریٹری متحدہ مجلس عمل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل عوام کیلئے امید نو بنے گی، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے نظام مصطفٰی کا نفاذ کریں گے، نظام مصطفٰیؐ کے نفاذ میں ہی ہمارے مسائل کا حل ہے، پوری قوم کی امیدیں ایم ایم اے پر ہیں، متحدہ مجلس عمل کے قیام سے سیکولر سیاست کے ایوانوں میں بھونچال آگیاہے۔

محب وطن ووٹوں کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے اور تمام دینی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ دینی قوتوں کی تقسیم سے پاکستان کے اسلامی نظریاتی کردار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں جامع مسجد الفلاح، بلاک A میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بانیان نے یہ ملک اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کیا تھا، 70 برس کے دوران یہاں ہر قسم کے تجربات کیے گئے مگر یہاں کے اقتدار اور نظامِ حکومت کو اس کے اصل مقصدِ وجود ’’اسلام‘‘ سے ہمیشہ دور رکھا گیا، جس کے باعث یہاں بے پناہ مسائل نے جنم لیا۔

(جاری ہے)

ملک کے تمام مسائل و مصائب کا واحد علاج آج بھی اسلام اور صرف اسلام ہے، ہم پاکستان کو ہر صورت خوشحال اسلامی پاکستان بنا کر دم لیں گے۔ دنیا بھر کی سیکولر اور لبرل قوتیں اور ان کے آلہ کار چاہے جتنی سرمایہ کاری کریں اور جتنا چاہیں زور لگائیں، پاکستان کو اس کی اسلامی شناخت سے محروم کرنے کی اُن کی کوششیں کسی طور کامیاب ہونے نہیں دی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے مقاصد نظام مصطفیؐ کا قیام، اسلام کا نظام عدل، معاشی خوشحالی، کرپشن کا خاتمہ، تعلیم،، صحت اور روزگار سب کے لئے، سب کا بلاامتیاز احتساب، وسائل کی منصفانہ تقسیم، خواتین، کسانوں، مزدوروں، اقلیتوں اور نوجوانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ہم کشمیریوں اور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہا ر کرتے ہیںاور ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کو آگے بڑھ کر کشمیریوں اور فلسطینیوں کی مکمل سرپرستی کرنی چاہئے، پاکستانی سفارتخانوں میں علیحدہ کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں۔ کشمیری اور فلسطینی عوام میدان میں نکل آئی ہے، جو روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، عالمی ادارے کشمیر اور فلسطنین میں قتل عام رکوانے کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اندرونی مسائل کی وجہ سے کشمیر کی تحریک پر توجہ نہیں دے رہی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔ حکومت کو کشمیر کے معاملے پر معذرت خواہانہ رویہ چھوڑنا اور بھارت کے ساتھ دوستی کے فریب سے باہر نکلنا ہوگا۔#