جماعت اسلامی نے پانی کی قلت کے خلاف واٹر بورڈ کے ہیڈ آفس پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کردیا

دھرنا 31مئیء کو شام 5بجے شاہراہ فیصل پر واقع ایم ڈی واٹر بورڈ کے دفتر کے باہر دیا جائے گا ، حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ

ہفتہ مئی 21:54

جماعت اسلامی نے پانی کی قلت کے خلاف واٹر بورڈ کے ہیڈ آفس پر احتجاجی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت جماعت اسلامی کراچی کے ذمہ داران کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں ، پانی کی شدید قلت ،سخت گرمی اور رمضان المبارک میں بھی شہر کے بیشتر حصے میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور حکومت اور واٹر بورڈ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے خلاف جمعرات 31مئی کو شام 5بجے شاہراہ فیصل پر ایم ڈی واٹر بورڈ کے آفس کے باہر زبردست احتجاجی دھرنا دیا جائے گا ،دھرنے میں شہر بھر سے پانی سے محروم شہری اور عوام بڑی تعداد میں شرکت کریں گے ،،رمضان المبارک میں دھرنے کو بھر پور اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور آراء کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اقدامات اور فیصلے بھی کئے گئے ۔

(جاری ہے)

اضلاع او رزونز کی سطح پر جماعت اسلامی ،پبلک ایڈ کمیٹی ، جے آئی یوتھ اور مختلف برادر تنظیموں کے ذمہ داران اور کارکنوں کو ہدایات کی گئیںکہ دھرنے کو موثر اور عوامی طاقت کے بھرپور اظہار کے لیے بڑے پیمانے پر انتظاما ت اور تیاریاں کی جائیں ۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے امراء اضلاع اور دیگر ذمہ داروں نے بھی شرکت کی ۔حافظ نعیم الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت اور بحران کا اہم اور بنیادی سبب پانی کی کمی سے زیادہ حکومت اور واٹر بورڈ کی نااہلی و ناقص کارکردگی اور پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے ۔

شہر میں پانی کی چوری بھی ایک اہم مسئلہ ہے ، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور پانی کی چوری میں واٹر بورڈ کے اعلی حکام اور اہلکارملوث ہیں ،ان کی اور ٹینکرز مافیا کی ملی بھگت کے باعث ہی عام شہری پانی سے محروم ہیں اور شہر کے بعض علاقے تو ایسے ہیں جہاں کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ، بہت سے علاقوں میں کئی کئی مہینوں سے پانی نہیں آرہا ہے ،واٹر بورڈ کی لائنوں میں تو پانی نہیں آتا لیکن ٹینکرز کے ذریعے مہنگے داموں پانی مل جاتا ہے ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پانی کی قلت کے خلاف لیاری کے عوام مسلسل کئی دنوں سے احتجاج کررہے ہیں جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی جگہ جگہ عوام سراپا احتجاج ہیں اور پانی پانی کی صدائیں بلند کررہے ہیں ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر حکومت اور واٹر بورڈ نے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات نہیں کیے تو شہر میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہوسکتی ہے ،اس لیے ہم واٹر بورڈ کے ایم ڈی کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور پانی کا مسئلہ حل کریں ،ہمارا احتجاج او ردھرنا پرامن ہوگا اور ہم شہر کراچی کے عوام کا مقدمہ لے کر جارہے ہیں ،ہم پانی کے مسئلے کے حل تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔