بڑی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق پر اتفاق کر لیا

31مئی کو ہونے والے اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی،ذرائع

اتوار مئی 20:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کئے جانے والے انتخابی ضابطہ اخلاق پر اتفاق رائے کر لیا ہے جبکہ کئی سیاسی جماعتوں نے اپنی جانب سے مزیدسفارشات پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ،31مئی کو الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے انتخابی ضابطہ اخلاق کے حوالے سے اہم اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی ۔

ذرائع کے مطابق ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اگلے عام انتخابات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کیلئے تیار کئے جانے والے انتخابی ضابطہ اخلاق کے زیادہ تر نکات سے اتفاق کیا ہے تاہم بعض سیاسی جماعتوںنے اسے مذید بہتر بنانے کیلئے مزید سفارشات بھی تیار کی ہیں جو 31مئی کو ہونے والے اجلاس میں پیش کئے جائیں گے الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو بھجوائے گئے مجوزہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے چیدہ چیدہ نکات کے مطابق انتخابی مہم کے دوران عدلیہ اور مسلح افواج کی بدنامی پر مبنی پروپیگنڈے پر مکمل پابندی ہوگی اسی طرح ہر قسم کے تعصب پر مبنی پروپیگنڈا پر بھی مکمل پابندی ہو گی نظریہ پاکستان ، ملکی خود مختاری کے خلاف بیانات پر مکمل پابندی ہو گی عدلیہ اور پاک فوج کے خلاف تضحیک آمیز بیانات پر مکمل پابندی ہو گی خواتین، خواجہ سرا کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے پرپابندی ہوگی ۔

(جاری ہے)

خواتین، مرد، خواجہ سرا کو امیدوار بننے سے محروم کرنے پر پابندی ہوگی پرتشدد یا مشتعل کارروائیوں اور عوام کی املاک کو نقصان پہنچانے پرپابندی ہوگی قومی اسمبلی کے امیدوار کی انتخابی اخراجات کی حد 40 لاکھ روپے تک ہوگی صوبایء اسمبلی کے امیدوار کے انتخابی اخراجات کی حد 20 لاکھ روپے ہوگی، مانیٹرنگ ٹیمیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزائیں دے سکیں گی ،کرپٹ پریکٹسز پر ایک لاکھ روپے جرمانہ تین سال قید کی سزا ہوسکے گی، میڈیا کے خلاف پرتشدد کارروائیاں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی ، ہتھیاروں کی نمائش پر مکمل پابندی ہو گی ہو ائی فائرنگ کریکرز اور آتشی ہتھیار کا استعمال غیر قانونی ہو گا سیاسی جماعتیں جنرل نشستوں پر 5 فیصد خواتین کو نمائندگی دینے کی پابند ہوں گی، پاکستان کی سلامتی ،نظریات کے خلاف مواد کو فروغ نہیں دیا جائے گا ٹکٹ ہولڈر سے پارٹی فنڈز لینے پر مکمل پابندی ہو گی ،وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کی کارکردگی کی تشہیر پر مکمل پابندی ہو گی ، کار ریلی ، وال چارجنگ ، بل بورڈز لگانے پر مکمل پابندی ہو گی ، ڈی آر اوز اور آر اوز ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانے کے پابند ہوں گے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدوار کو نا اہل کیا جا سکتا ہے، انتخابی مہم پر کیا گیا تمام خرچہ امیدوار کا خرچہ تصور ہو گا انتخابی پلان کے اجرا سے گزٹ نوٹیفیکیشن تک تقرر و تبادلوں پر مکمل پابندی ہو گی تاہم اشد ضرورت پر پیشگی اجازت لینا ہو گی ۔

اعجاز خان