الیکشن کمیشن سندھ نے اپنے کئی پرانے ملازمین کو 31 مئی تک نکالنے کے لئے شو کاز نوٹس جاری کر دیا

الیکشن کمیشن سندھ ملازمین سخت تشویش میں مبتلا ، جن ملازمین کو نوٹس دیاگیا ہے ان میں بعض ملازمین 20 سال پرانے ہیں،ذرائع

پیر مئی 19:30

الیکشن کمیشن سندھ نے اپنے کئی پرانے ملازمین کو 31 مئی تک نکالنے کے لئے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) عام انتخابات 2018 کی تاریخ کا اعلان کے بعد بھی الیکشن کمیشن سندھ نے اپنے کئی پرانے ملازمین کو 31 مئی تک نکالنے کے لئے شو کاز نوٹس جاری کر دیا ہے ،جس کے باعث الیکشن کمیشن سندھ ملازمین سخت تشویش میں مبتلا ہیں ، جن ملازمین کو نوٹس دیاگیا ہے ان میں بعض ملازمین 20 سال پرانے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ کے جوائنٹ الیکشن کمشنر محمد رشید بھٹی کی جانب سے ایک درجن سے زائد ملازمین کو شو کاز نوٹس ملا ہے جس میں انہیں کہا گیا ہے کہ ان کی تقرریاں کے دوران جانبدرای کا مظاہرہ کیا گیایا پھر معیار کو مد نظر نہیں رکھا گیا ۔

نوٹس کے مطابق یہ انکوائری 2015 میں سندھ میں بھرتی ہونے والے نصف درجن کے قریب ملازمین کے حوالے سے شکایت تھی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کی روشنی میں ان سے دوبارہ ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

انکوائری 2015 میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی کا ذکر کیاگیا تھا مگر متعلقہ حکام نے کمال مہارت سے ایسے ملازمین کو بھی اس ٹیسٹ میں شامل کیا جو الیکشن کمیشن سندھ میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے ملازمت کر رہے ہیں ۔

بعض ملازمین کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کی مدت ملازمت کو 20 سال سے زائد ہوئے ہیں، 10سال سے زائد والے بھی متعدد ہیں ملازمیں شامل ہیں۔یہ ملازمین اس وقت سندھ کے مختلف اضلاع میں الیکشن کمیشن سندھ کے مختلف دفاتر میں کام کر رہے ہیں اور ان کی سابقہ کارکردگی بھی بہتر رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف 2015 کا تھا اور دانستہ طور پر پرانے ملازمین کو شامل کیا گیا، جس کا مقصد خوفزدہ کرنا یا پوسٹوں کو خالی قرار دیکر من پسند افراد کا تقرر کرنا ہے۔

شو کارز نوٹس میں 2015 سے قبل کے ملازمین کا ذکر نہیں ہے ۔جب الیکشن سر پر ہیں تو ایسے میں صوبے میں ملازمین کو فارغ کرنے کے لئے شو کاز نوٹس جاری کرنا سوالیہ نشان ہی یا کسی خاص منصوبے کا حصہ ہے ۔ ملازمین کے مطابق ہم نے اپنی عمریں اس اداریکو دیں اورآج ہمیں ملازمت سے فارغ کرنے کا نوٹس دیا جارہا ہے اگر ہماری اہلیت نہیں تھی تو گزشتہ ایک یا دو دہائیوں سے ادارے نے اس کا نوٹس کیو ں نہیں لیا۔

اس نوٹس کے اجرا کے بعد الیکشن کمیشن آف سندھ کے دیگر ملازمین بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں کہ انہیں بھی کسی بھی وقت کوئی بہانہ بناکر فارغ کیاجا سکتا ہے۔متاثرہ ملازمین کو 31 مئی سے پہلے شوکاز کا جواب سندھ کے جوائنٹ الیکشن کمشنر محمد رشید بھٹی نے اپنے پاس جمع کرنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ اگر جواب نہ ملا تو یک طرفہ طور پر کارروائی کی جائے گی۔