ارکان ایک دوسرےکوگلےلگا کررخصت کریں،سردارایازصادق کا مشورہ

31 مئی پارلیمانی مدت کا آخری دن ہے،سب ارکان اسمبلی میں آئیں اوراچھی باتیں کریں۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 20:02

ارکان ایک دوسرےکوگلےلگا کررخصت کریں،سردارایازصادق کا مشورہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28 مئی 2018ء) : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ارکان ایک دوسرے کو گلےلگا کررخصت کریں،31 مئی پارلیمانی مدت کا آخری دن ہے،سب ارکان اسمبلی میں آئیں اوراچھی باتیں کریں۔ انہوں نے آج ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 31 مئی پارلیمانی مدت کا آخری دن ہے،سب ارکان اسمبلی میں آئیں اوراچھی باتیں کریں۔

لہذا ارکان اسمبلی کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو گلے لگا کررخصت کریں۔ ایوان میں شیریں مزاری نے کہا کہ فاٹا انضمام کی حمایت کی وجہ سے قیصرجمال کے حجرے پرحملہ کیا گیا۔ جس پرایازصادق نے کہا کہ کسی بھی ایم این اے کے ساتھ زیادتی ہو وہ غلط ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جے یو آئی (ف) یا مولانا فضل الرحمان کی ایسی کوئی ہدایت نہیں ہوگی۔

(جاری ہے)

دریں اثناں پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ کا اہم دن ہے کیونکہ آئندہ عبوری وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

اس معاملے پر قائد حزب اختلاف کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں اور تقریباً چھ ہفتوں تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت ہوتی رہی۔ اس طرح ہم نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا اور لیڈر آف اپوزیشن نے بھی اپنی جماعت سے ان ملاقاتوں کے حوالے سے مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ بطور نگران وزیراعظم جن کے نام کو حتمی شکل دی گئی ہے، ان کا کردار بہت شفاف ہے۔

کوئی ان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں سپیکر سردار ایاز صادق کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سارے معاملے میں اپنا آئینی کردار ادا کیا ہے۔ قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ نگران وزیراعظم کی تعیناتی کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہوا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ ہے اور جمہوریت کی فتح ہے۔ یہ پاکستان اور جمہوریت دونوں کے حق میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں یہ بات ثابت ہوگی کہ یہ فیصلہ جمہوریت اور پاکستان کے حق میں ہے اور اس تسلسل کے حق میں ہے جس کے لئے ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ وزیراعظم اور سپیکر کا شکر گزار ہوں کیونکہ نگران وزیراعظم کے حوالے سے فیصلہ انتہائی اہم تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بہت سی چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں کہ سیاست دان اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے، ہمیشہ فیصلے باہر ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے ہماری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں، جن حضرات کے نام آئے سب قابل عزت اور قابل احترام ہیں، ہماری کوشش رہی ہے کہ ایسا فیصلہ ہو جو پاکستان کے عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو قابل قبول ہو۔ یہ نہ نظر آئے کہ کوئی پارٹی اپنا فیصلہ ٹھونس رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کا بھی شکر گزار ہوں۔ اس حوالے سے جو گائیڈ لائن پارٹی نے دی تھی اسی کے مطابق ہم نے حکومت کے ساتھ بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے اور مشاورت کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا بھی شکر گزار ہوں کہ ہم نے جذبات سے ہٹ کر صبر و تحمل کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آئندہ نگران وزیراعظم کے لئے جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک چیف جسٹس آف پاکستان بھی رہے ہیں۔ عدالتی تاریخ میں ان کا ایک تاریخی کردار رہا ہے۔ الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ الله تعالیٰ ان کو جذبہ اور ہمت دے کہ 25 جولائی کو صاف، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرا سکیں آئندہ عام انتخابات ملکی تاریخ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیراعظم سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ سمیت ہم سب کی یہ توقع ہے کہ آئندہ عام انتخابات صاف، شفاف اور منصفانہ ہوں گے۔

خوشی کی بات ہے کہ ہم پانچ سال کی آئینی مدت پوری کر رہے ہیں اور یہ بھی توقع ہے کہ ایک مرتبہ پھر پرامن انتقال اقتدار ہوگا۔ اس سے پہلے 2008ء سے 2013ء، 2013ء سے 2018ء تک بھی ہم نے ایک کٹھن سفر طے کیا ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں آئندہ بھی ہمت دے کہ ہم ان چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں۔ توقع ہے کہ جو بھی جماعت آئندہ الیکشن میں منتخب ہوگی وہ ملک کے لئے اہم کردار ادا کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کل چھ نام تھے جن میں سے چار نام زیر بحث رہے۔ میڈیا میں بھی یہ نام آتے رہے ہیں تاہم جسٹس (ر) ناصر الملک اور جلیل عباس جیلانی دو نام ایسے ہیں جو منظر عام پر نہیں آئے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر نام پر غور ہوا ہے۔ ناصر الملک کے نام پر فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا ہے جس پر کوئی بھی شخص انگلی نہیں اٹھا سکتا۔