ہائی کورٹ کا کٹھ پتلی انتظامیہ کو مسرت عالم کی غیر قانونی نظربندی کی خلاف دائر عرضداشت پر تین ہفتوں میں جواب دینے حکم

بدھ مئی 15:58

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںہائی کورٹ نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء اور مسلم لیگ کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر عرضداشت پر تین ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔

(جاری ہے)

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس الوک آرا دہی نے مسرت عالم بٹ کے وکیل ایڈووکیٹ میاں طفیل کے دلائل سننے کے بعد کٹھ پتلی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عرضداشت پر اپناجواب تین ہفتوں میں جمع کرانے کی ہدایت کی ۔

مسرت عالم بٹ کے چچا فاروق احمد نے انکی مسلسل غیر قانونی نظربندی کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضداشت دائر کی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ مسرت عالم بٹ پر متعدد بار کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے انکی غیر قانونی نظربندی کو طول دیا جارہا ہے ۔انہوںنے عرضداشت میں انکی فوری رہائی پر زوردیا ہے ۔ 47سالہ حریت رہنماء مسرت عالم بٹ کو 2010کے عوامی انتفادہ کے دوران گرفتار کیاگیا تھا ۔ اس دوران 2015میں انہیںرہاکیاگیا تھاتاہم صرف چالیس دنوں بعد ہی انہیں دوبارہ گرفتار کر کے جموں کی جیل منتقل کردیاگیا۔