لاہورہائیکورٹ کا فیصلہ: الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ جانےکااعلان

الیکشن کمیشن کا اجلاس،کاغذات نامزدگی کے فیصلے کا جائزہ،3اور4 جون کوکاغذات نامزدگی وصول نہیں کریںگے،عام انتخابات کا انعقاد 25 جولائی کوہی ہوگا، الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول میں تبدیلی کا اختیاررکھتا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ جون 16:36

لاہورہائیکورٹ کا فیصلہ: الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ جانےکااعلان
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔02 جون 2018ء) : الیکشن کمیشن نےلاہورہائیکورٹ اوربلوچستان کے فیصلوں کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ3 اور4 جون کو کاغذات نامزدگی وصول نہیں کریں گے،عام انتخابات کا انعقاد 25 جولائی کوہی ہوگا، الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول میں تبدیلی کا اختیاررکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا۔

جس میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز، سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کاغذات نامزدگی پرلاہورہائیکورٹ کے فیصلے اوربلوچستان میں الیکشن کے التواء کی قرار دار کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن نے لاہورہائیکورٹ اوربلوچستان کے فیصلوں کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن اختر نذیرنے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب امیدواروں سے3 اور4 جون کو کاغذات نامزدگی وصول نہیں کریں گے۔

تاہم عام انتخابات کا انعقاد25 جولائی کوہی ہوگا۔ الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول میں تبدیلی کا اختیاررکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں حلقہ بندیوں اورنامزدگی فارم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ریٹرننگ افسران کو تازہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا شروع سے مؤقف رہا ہے نامزدگی فارم کو رولز کا حصہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرمستقبل کالائحہ عمل بنائیں گے۔ افسران کی تقرریوں اورتعیناتیوں پرصوبائی حکومتوں سےوضاحت طلب کی ہے۔ دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق نے آج یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ فارم میں تبدیلی لانے کے فیصلے کیخلاف عدالت جاؤں گا۔

انہوں نے پارلیمنٹ کے فارم کو رد کرنے کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25مئی کواسلام آباد ہائیکورٹ میں اسی فارم کیخلاف پٹیشن دائر کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس پٹیشن کورد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن بھی اسی ایکٹ کے تحت ہوئے ہیں۔ سینیٹ الیکشن اسی ایکٹ کے تحت ہوئے جس کے تحت کاغذات نامزدگی فارم بنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر فارم میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ الیکشن شیڈول کےاعلان کے بعد فیصلہ آنے کا کیا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے فیصلے بردباری سے کیے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کے دیئے گئے نام منظور کیے گئے۔ تحریک انصاف نے فیصلے پیری مریدی سے کروانے ہیں یا سوشل میڈیا سے؟ تحریک انصاف والے کنفیوژن کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے نام پر کوئی تنقید نہیں ہوئی۔