انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سکون کی سانس لینے کا موقع مل گیا

2013ء کے عام انتخابات کے برعکس اس مرتبہ قرضوں، شریک حیات، کاروبارکی تفصیلات، بلوں کی ادائیگی، تعلیم اورموجودہ پیشے کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری نہیں ہے،قومی اخبار کی رپورٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر جون 11:27

انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سکون کی سانس لینے کا موقع مل ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔04 جون 2018ء) عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی موجیں لگ گئیں۔ قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے کاغذات نامزدگی میں ترامیم کے حوالے سے سنائے گئے فیصلے کو معطل کرکے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سکون کی سانس لینے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں تمام پارلیمانی جما عتو ں نے کاغذات نامزدگی میں سے تقریباً19 ڈیکلیئر شینزکو ختم کیا تھا ،جس میں اہم مالی امور ، قرضوں، ٹیکس چوری، فوجداری مقدمات اور کاروباری مفادات سے متعلق معلومات کی ضرورت تھی۔اس سے قبل کاغذات نامزدگی میں تبدیلی الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اختیار تھا۔2013 کے عام انتخابات کے برعکس اس مرتبہ قرضوں، بلوں کی ادائیگی، شریک حیات، کاروبارکی تفصیلات، تعلیم اورموجودہ پیشے کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری نہیں ہے اس کے علاوہ این ٹی این، غیر ملکی سفر، حلقوں میں کیے گئے کام، سیاسی فنڈز، اثاثوں اور غیر ملکی شہریت کی تفصیل بھی لازمی نہیں ہو گا۔

(جاری ہے)

2013کے انتخابات میں امیدوار کو ایک ضروری حلف نامے پر دستخط کرنا ہوتے تھے۔حلف نامے کے مطابق، میں اپنی بہتر معلومات کے تحت حلفیہ اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ 1۔20لاکھ روپے یا اس سے زائد کا کسی بھی بینک، مالیاتی ادارے، کو آپریٹیو سوسائٹی یا کارپوریٹ ادارے سے میں نے اپنے نام یا اپنی شریک حیات کے نام پر یا مجھ پر منحصر کسی بھی شخص کے نام پر قرضہ نہیں لیا ہےیا پھر میرے نام پر یا درج بالا افراد کے نام پر کاروبار مقررہ تاریخ سے ایک سال کے زائد عرصے تک واجب الادا نہیں ہےاور تحریری طور پر ایسا قرضہ لیا ہو، اور میں ، میری شریک حیات یا میری کسی بھی بیٹی یا کاروبار سے متعلق جو میری یا درج بالا افراد کی ملکیت ہو، اس پر حکومتی ادائیگیاں یا یوٹیلیٹی چارجز جس میں ٹیلی فون، بجلی ، گیس اور پانی کے بل جس کی مالیت 10ہزار روپے سے زائد ہو،کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے چھ ماہ قبل تک واجب الادانہیں ہیں۔

کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے وہ نااہل ہوسکتے تھے۔