سارک ممالک کو آسیان اور ای سی او کے ساتھ تجارتی تعاون کو فروغ دینا چاہیئے، خطے میں با معنی تجارتی نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور ممبر ریاستوں کے درمیان کنیکٹیوٹی پر بہتر تعاون کے بغیر ممکن نہیں

معاشی ترقی کے ثمرات گاؤں اور کمیونٹی کی سطح پرپہنچنے چاہئیں، سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک کا افطار ڈنر سے خطاب

پیر جون 16:40

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) سارک چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ سارک تنظیم تنہا رہ کر زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکتی اس لئے اسے دیگر ایشیائی اور عالمی تنظیموںکے ساتھ مل کر خطے میں ترقی کیلئے کوششیں کرنا ہونگی۔ گزشتہ شب یہاں مقامی ہوٹل میں بزنس کمیونٹی کی جانب سے اپنے اعزاز میں افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ سارک ممالک کو اپنی مکمل صلاحیت سے استفادہ کیلئے نئے ڈھانچے اور میکانیزم کی تیاری میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور انہیں جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم آسیان میں نئے شراکت داروں کی تلاش کرنی چاہیئے کیونکہ یہ تقریبا 550 ملین افراد کی مارکیٹ ہے جن کا معیار زندگی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلند ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

سارک اور آسیان ممالک کے تجارتی حجم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی آسیان کے ساتھ تجارت کا حجم 12 بلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کا تجارتی حجم تقریبا 2 بلین ڈالر ہے اور یہ بھی آسیان کے حق میں ہے جبکہ یہ حجم کم از کم 5 ارب ڈالر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سارک ممالک کو اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط بنانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں با معنی تجارتی نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور ممبر ریاستوں کے درمیان کنیکٹوٹی پر بہتر تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا ایک ٹرانس یوریشیا بریج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور تیل اور گیس کی پائپ لائنیں اسے باقی دنیا کے ساتھ منسلک کر رہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں معیشت کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے ثمرات گاؤں اور کمیونٹی کی سطح پر پہچنے چاہئیں، سارک کے کاروباری اداروں کو اپنی حکومتوں پر زور دینا چاہیئے کہ وہ اس ضمن میں عملی اقدامات کریں۔

افتخار ملک نے کہا کہ سارک ممالک میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے سات شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ویزا مسائل کا حل کیا جانا چاہئے اور تاجروں کے لئے ویزا کی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سارک خطے میں تجارت اور اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے لئے ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہئے، اگرچہ یہ مشکل لگتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے، اس کے لئے ہمیں عوامی رابطوں کی حوصلہ افزائی اور تمام شعبوں میں تعاون کے راستے تلاش کرنا ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ سارک ممالک اب بھی اقتصادی انضمام کے مقاصد کے حصول سے بہت دور ہیں، ہمیں اس کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہوگی کیونکہ اس کے بغیر اقتصادی یونین کا مقصد محض خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ عملدآمد نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی مفاہمتیں، فیصلے اور معاہدے موجود ہونے کے باوجود نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف لبرلائزیشن پروگرام کو تیز کرنے کے لئے کوشش کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے اپنے بطور سینیئر نائب صدر سارک چیمبر انتخاب پر بزنس کمیونٹی کی طرف سے تقریب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ سارک چیمبر کی سبکی نہیں ہونے دینگے اور اسے تیز رفتار اقتصادی انضمام اور ترقی کے لئے ایک موثر فورم بنانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔