خواجہ سراوں کے الیکشن لڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا

نامزدگی فارم میں خواجہ سراوں کا خانہ ہی نہیں ،شی میل ایسوسی ایشن کی صدر نے عدالت جانے کا اعلان کر دیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل جون 21:18

خواجہ سراوں کے الیکشن لڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا
پشاور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-05 جون 2018ء) :خواجہ سراوں کے الیکشن لڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ نامزدگی فارم میں خواجہ سراوں کا خانہ ہی نہیں ،شی میل ایسوسی ایشن کی صدر نے عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق 2018 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔جیسے جیسے انتخابات قریب سے قریب تر آ رہے ہیں سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور سیاسی کارکنان اور رہنما اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت سیاسی وفاداریاں تبدیل کررہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں نے بھی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ایسے میں ایک کمیونٹی ایسی بھی ہے جو پاکستانی تاریخ میں پہلی بار اپنا ووٹ کاسٹ کرنے جا رہی ہے یا دوسرے الفاظ میں انکو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ووٹ کا حق استمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ ہے پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی ،جو اس الیکشن میں پہلی بار حق رائے دہی استعمال کرے گی ۔

(جاری ہے)

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ 13 خواجہ سراوں نے ملک بھر سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

آل پاکستان ٹرانس جینڈر الیکشن نیٹ ورک نے الیکشن کمیشن کے تعاون سے ہونے والی ایک تقریب میں بتایا گیا تھا کہ 2 امیدوار قومی اسمبلی جبکہ 9 خواجہ سرا صوبائی اسمبلی کا انتخابات لڑیں گے۔آل پاکستان ٹرانس جینڈر الیکشن نیٹ ورک کا کہنا تھا کہ فرزانہ ریاض این اے 33، نایاب این اے 142 جبکہ آرزو خان پی کے 33,لبنہ پی پی 26،کومل پی پی 38، میڈم بھٹو پی پی 109سے جبکہ ندیم کشش قومی اسمبلی اور عاشی پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑیں گی۔

اس موقع پر خواجہ سراوں کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات جیت کر اپنی کمیونٹی کے مسائل ایوان میں اٹھائیں گے۔تاہم تازہ ترین خبر نے خواجہ سراوں پر بجلی گرا دی ،خواجہ سراوں کے الیکشن لڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دئیے جانے والے نامزدگی فارم میں خواجہ سراوں کا خانہ ہی نہیں ہے ۔۔پشاور میں خیبر پختونخواہ کی شی میل ایسویسی ایشن کی صدر فرزانہ نامزدگی فارم میں خواجہ سرا کے نام کا خانہ نہ ہونے کے باعث فارم حاصل نہ کر سکیں۔

اس موقع پر فرزانہ کا کہنا تھا کہ بطور ووٹر ووٹ ڈالنے کا حق دیا ہے تو بطور امیدوار الیکشن لڑنے کا حق بھی دیا جائے ۔انکا کہنا تھا کہ اس مرتبہ اگر الیکشن لڑنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔یاد رہے کہ اس مرتبہ عائشہ گلا لئی کی جماعت تحریک انصاف گلا لئی نے اپنی جانب سے 6 خواجہ سراوں کو ٹکٹ جاری کئیے تھے۔