بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ،ْ محمد نوید ملک

لوڈشیڈنگ سے صنعتی سرگرمیاں بہت متاثر ہو رہی ہیں ،ْ کریم عزیز ملک

بدھ جون 16:53

بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ،ْ محمد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائمقام صدر محمد نوید ملک نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اچانک اضافے سے پیداواری سرگرمیاں بہت متاثر ہو رہی ہیں جبکہ ماہ رمضان میں عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید نقصان سے بچانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے لوڈشیڈنگ پر فوری قابو پائے اور اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے نگران وزیر اعظم کی طرف سے وزارت پاور کو بجلی کمپنیوں کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کرنے کے اقدام کو سراہا کیونکہ ملک کو ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس اسلام آباد کے نائب صدر کریم عزیز ملک سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے چیمبر کا دورہ کیا اور مقائم مقام صدر سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

محمد نوید ملک نے کہا کہ اکنامک سروے رپورٹ برائے 2017-18کے مطابق پاکستان میں جون 2013میں تنصیب شدہ بجلی کی صلاحیت 22812میگاواٹ تھی جو فروری 2018تک بڑھ کر 29573میگاواٹ تک پہنچ گئی جبکہ سبکدوش ہونے والی حکومت نے اپنے دور میں نیشنل گریڈ میں دس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کا اضافہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے باوجود گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ میں اچانک اضافہ سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ اس سے کاروبار اور عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

محمد نوید ملک نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار صنعتی ترقی کیلئے بجلی کی بلا تعطل فراہمی اشد ضروری ہے لیکن جس طرح آج کل لوڈشیڈنگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ان حالات میں ملک کی صنعتی ترقی کا عمل بہت متاثر ہو گا اور پیداواری سرگرمیاں کم ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قلت کی وجہ سے نئی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی کیونکہ جب بجلی نہیں ہو گی تو کون ان حالات میں ملک میں سرمایہ کاری کرنے پرآمادہ ہو گا۔

لہذا انہوںنے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کرے تا کہ بلا تعطل بجلی فراہم ہونے سے صنعت و تجارت کو بہتر فروغ ملے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس کے نائب صدر کریم عزیز ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات 2013میں تقریبا 120ارب روپے تھے جو2018تک بڑھ کر 360ارب تک پہنچ گئے ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان نقصانات کو کم کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات کو بھی فوری کم کرنے کیلئے جامع اقدامات اٹھائے جس سے بجلی کی فراہمی کی صورتحال بہتر ہو گی۔ انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے توانائی بحران کا حل اشد ضروری ہے لہذا حکومت ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تا کہ صنعت و تجارت کو بلا تعطل بجلی کی فراہم یقینی بنا کر پاکستان کو پائیدار صنعتی ترقی کے راستے پر ڈالا جائے جس سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔