سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینالازمی ہو ں گے، الیکشن کمیشن

بدھ جون 17:46

سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) انتخابی قانون 2017ء کے تحت عام انتخابات 2018ء میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینالازمی ہو ں گے۔ قومی اسمبلی میں 272 نشستوں پر کم از کم 13 ٹکٹ خواتین کو دینے ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق انتخابی قانون 2017ء میں براہ راست نشستوں پر 5فیصد ٹکٹ خواتین کو دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سندھ سے براہ راست انتخاب میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن میں فریال تالپور،، عذرا فضل، شازیہ مری،، نفیسہ شاہ اور فہمیدہ مرزاگزشتہ انتخابات 2013ء میں براہ راست نشستوں پر منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں آئی تھیں جبکہ فہمیدہ مرزا کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد بقیہ خواتین عام انتخابات 2018ء میں بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر براہ راست حصہ لیںگی۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 2013ء کے عام انتخابات میں سائرہ افضل تارڑ، غلام بی بی بھروانہ ، شذرہ منصب علی خان کھرل(ضمنی انتخاب)، براہ راست نشستون پر کامیاب ہو کر ایوان میں آئیں ان میں سے غلام بی بی بھروانہ تحریک انصاف میں شامل ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما تہمینہ دولتانہ بھی براہ راست نشست پر امیدوار تھیں تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ اب عام انتخابات کے لئے لازمی ہے کہ کم سے کم 13 ٹکٹ قومی اسمبلی کے لئے براہ راست خواتین کو دیئے جائیں ۔