سرحد چیمبر کا بجلی کی ٹرپننگ اور فالٹ کا بہانہ بناکر بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کااظہار

جمعرات جون 21:47

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہداللہ شنواری نے گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ اور انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آبادپشاور سمیت صوبہ بھر کی صنعتی بستیوں میں جاری 10 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کی ٹرپننگ اور فالٹ کا بہانہ بناکر بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خیبر پختونخوا کی انڈسٹریز کو جان بوجھ کر تباہ کیا جا رہا ہے جس سے بے روزگاری میں اضافہ سمیت امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہوگی۔

ایک بیان میں سرحد چیمبر کے صدر زاہداللہ شنواری نے کہا کہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں بجلی کی 10 گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کی بار بار ٹرپنگ سے صنعتوں میں نصب جدید اورقیمتی مشینری تباہ ہو رہی ہے جبکہ مشینوں میں موجودخام مال بھی ضائع ہو رہا ہے جس سے کارخانہ داروں کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ تا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ لائنز میں فالٹ کے نام پر بھی گھنٹوں گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے صوبہ خیبر پختونخوا کی صنعتیں بری طرح متاثرہو کر تباہی کی دہانے پہنچ چکی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب میں انڈسٹریل اسٹیٹس کے اندر موجود لیبر کالونیز میں 50 امپیئر بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پشاور اور صوبہ کے دیگر انڈسٹریل اسٹیٹس میں لیبر کالونیز کو 20 امپیئر بجلی دی جا رہی ہے ۔ زاہداللہ شنواری نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بجلی کا انڈسٹریل لوڈ پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن اس کے باوجود اس صوبہ کو کوٹے کے مطابق بجلی فراہم نہیں کی جا رہی جو بلا شبہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

انہوں نے نگران وزیراعظم پاکستان جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان سے درخواست کی کہ وہ فوری طور پر خیبر پختونخوا کی صنعتوں کے ساتھ ہونیوالی اس زیادتی کا نوٹس لیں اور پیسکو حکام سمیت تمام ذمہ داران کو فوری ہدایات جاری کریں کہ وہ خیبر پختونخوا کی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کریں اور اُنہیں نہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے بلکہ صنعتوں میں جاری بجلی کی ٹرپننگ پر فوری قابو پایا جائے تاکہ صنعتکاروں کو ہونیوالے مالی نقصانات کا ازالہ ہوسکے۔