مشرف کو الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت ،ْ

کدھر گیاآئین و قانون،آرٹیکل 6،اورکدھر گئے سارے مقدمی نوازشریف

جمعہ جون 13:30

مشرف کو الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت ،ْ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ،ْسابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پرویز مشرف پر ایک طرف سنگین غداری کامقدمہ دوسری طرف الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت مل گئی ،ْکدھر گیاآئین و قانون،آرٹیکل 6،اورکدھر گئے سارے مقدمی سب کچھ قانون سے بالا تر ہورہاہے ،ْمشرف جیسے شخص کوکیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے جوبگٹی قتل کیس میں،ججوں کو نظر بند کرنے،12مئی کیواقعہ میں اور2بارآئین توڑنے میں شامل ہو ،ْ چیف جسٹس صاحب کہہ رہے ہیں مشرف کو گرفتار نہ کیا جائے ،ْ یہ کون سا آئین ہے ،ْاس آئین کی شق ہمیں بھی پڑھا دیں ،ْ دوسری طرف مجھے بیگم کی عیادت کیلئی3 دن کا استثنا بھی نہیں مل رہا،مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا ،ْایک جانب مشرف کو رعایت دی جارہی تو دوسری جانب مجھے بیمار بیوی سے ملنے کے لیے 3 دن کی استثنیٰ تک نہیں دی گئی۔

(جاری ہے)

جمعہ کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کی۔۔پرویز مشرف کے حوالے سے سوال پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے جواب دیا کہ سب کچھ قانون سے بالاتر ہو رہا ہے،مشرف جیسے شخص کوکیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے جوبگٹی قتل کیس میں،لال مسجد کیس ،ْججوں کو نظر بند کرنے،12مئی کیواقعہ میں اور2بارآئین توڑنے میں شامل ہو۔

انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عقل و فراست میں یہ بات نہیں آ رہی کہ کوئی قتل کردے،آئین توڑدے،،تباہی پھیردے،،چیف جسٹس چاہیں گے تو اسے کچھ نہیں کہاجائیگا ،ْآپ کہہ رہے ہیں اسے گرفتار نہ کیا جائے ،ْ یہ کون سا آئین ہے اس آئین کی شق ہمیں بھی پڑھا دیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف مجھے بیگم کی عیادت کیلئی3 دن کا استثنا بھی نہیں مل رہا،مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کس آئین اور قانون میں مشروط اجازت دینے کا لکھا ہے ،ْہمیں بھی دکھا دیں ،ْسب لوگ حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ چیف جسٹس ایسا حکم کیسے دے سکتے ہیں۔کیا اس ملک میں ایسا قانون ہے جو اعلیٰ عہدے پر بیٹھے کسی شخص کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ فوجی آمر کو یقین دہانی کرائی اس دوران صحافی کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان یقین دہانیوں کے بعد پرویز مشرف واپس آجائیں گی تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں مفروضات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔

گزشتہ روز چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13 جون کو لاہور رجسٹری میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ ''پرویز مشرف میرے سامنے پیش ہوجائیں، انہیں گرفتار نہیں کیا جائیگا۔واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس بھی زیرسماعت ہے جس میں خصوصی عدالت نے ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔