بھارتی آبی جارحیت ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن گئی،ولی اللہ خان

جمعہ جون 18:33

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) بھارتی آبی جارحیت ملکی سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، بھارت کشن گنگا اور دیگر ڈیموں کی تعمیر کے بعد اب پاکستان کا مزید پانی روکنے کے لئے بکل دل ڈیم تعمیر کررہا ہے اور دریائے چناب پر بننے والی ڈیم سائٹ کے ڈیزائن میں غیر ضروری تبدیلی کرکے پاکستانی دریا کا ایک لاکھ ایکڑ فٹ پانی روکنے کا منصوبہ بناچکا ہے۔

بھارت کی جانب سے چناب کا 30 ہزار کیوسک پانی روک کر بگلہار ڈیم میں ذخیرہ کرنے کے باعث پاکستان کے آبی بحران میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ سندھ و پنجاب میں قلت آب کے باعث زرعی شعبہ متاثر ہورہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایس ایم ای فائونڈیشن کے صدر ولی اللہ خان نے آبی وسائل سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد صرف 22 ہزار کیوسک رہ گئی ہے جبکہ دریائے چناب میں پانی کا اخراج صفر ہے جس سے سندھ و پنجاب کے حصے کے پانی میں مزید کٹوتی کا خدشہ ہے۔

ولی اللہ خان نے کہا کہ سندھ و بلوچستان کے زیریں علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال ہے، ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر اور لاکھوں ایکڑ سمندر برد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا دار و مدار زراعت پر ہے اور 48 فیصد آبادی کا روزگار بھی زرعی شعبے سے وابستہ ہے، آبی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ الی اللہ خان نے کہا کہ قومی اتفاق رائے سے آبی ذخائر تعمیر کئے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو تباہی سے بچایا جاسکے۔