نان فائلرزکیلئے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، محمد نوید ملک

اوورسیز پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات اپنے ملک کو بھیجتے ہیں جن میں سے تقریبا پچاس فیصد پراپرٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر جاتی ہیں لیکن حکومت نے نان فائلرز کیلئے پچاس لاکھ سے زائد کی پراپرٹی خریدنے پر پابندی عائد کر کے ایک ایسا اقدام اٹھایا ہے، قائم مقام صدر اسلام آباد چیمبرز

پیر جون 20:08

نان فائلرزکیلئے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد پابندی کے فیصلے پر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر محمد نوید ملک نے کہا کہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ ان میں اضافے سے خاص طور پر رئیل اسٹیٹ شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بہتر فروغ ملتا ہے لیکن بجٹ 2018-19میں حکومت نے نان فائلرز کیلئے پچاس لاکھ سے زائد کی پراپرٹی خریدنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جس سے نہ صرف پراپرٹی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ اس سے ترسیلات زر کے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے معیشت کو نقصان ہو گا لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کرے تا کہ ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی ہونے سے معیشت کیلئے فائدہ مند نتائج برآمد ہوں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن جی ایٹ ون کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل عبدالغفار چوہدری کی قیادت میں چیمبر کا دورہ کیا۔ چیمبر کے نائب صدر نثار مرزا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد میں خالد چوہدری، شیراز احمد صدیقی، چوہدری ناصر اقبال، فیضان شہزاد اور طاہر چوہدری شامل تھے۔

محمد نوید ملک نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات اپنے ملک کو بھیجتے ہیں جن میں سے تقریبا پچاس فیصد پراپرٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر جاتی ہیں لیکن حکومت نے نان فائلرز کیلئے پچاس لاکھ سے زائد کی پراپرٹی خریدنے پر پابندی عائد کر کے ایک ایسا اقدام اٹھایا ہے جس سے ترسیلات زر کی حوصلہ شنکی ہو گی کیونکہ اوورسیز اپنے ملک کو پیسا بھیجنے کی بجائے دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کریں گے جس سے ہماری معیشت کو نقصان ہو گا۔

انہوںنے کہا کہ حکومتی فیصلے سے پہلے پاکستان کی کل 20ارب ڈالر کی ترسیلات زر میں سے تقریبا 8سے 10ارب ڈالر پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائے گئے تھے لیکن ایک ایسے وقت میں جب کہ ہماری معیشت کو مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے حکومت نے نان فائلرز کیلئے پچاس لاکھ یا اس سے زائد کی پراپرٹی کی خریداری پر پابندی لگا دی ہے جس سے نہ صرف ملک میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ پاکستان کا رئیل اسٹیٹ شعبہ بھی نئی سرمایہ کاری سے محروم ہو جائے گا جس کے معیشت پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

محمد نوید ملک نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے دبئی نے حال ہی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فیملی سمیت 10سال کا ویزا جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کنیڈا نے بھی 8لاکھ ڈالر کا سرمایہ ملک میں لانے والون کو نیشنلٹی دینے کا اعلان کیا ہے لیکن پاکستان میں نان فائلرز کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

انہوںنے تجویز دی کہ حکومت نائن فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری پر پابندی عائد کرنے کی بجائے ان کیلئے ٹیکس کے ریٹ میں اضافہ کرنے پر غور کرے اور ان کو پراپرٹی کی خرید و فروخت کی اجازت دے جس سے رئیل اسٹیٹ شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کاروبار سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور معیشت مستحکم ہو گی۔ ۔