سزا یافتہ جج کی ایک سال کی سزا کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین سال کی سزا سنانے کا حکم نامہ جاری کردیا

پیر جون 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا یافتہ جج کی ایک سال کی سزا کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تین سال کی سزا سنانے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ او رجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سزا یافتہ جج راجہ خرم علی خان اور وفاقی حکومت کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا جس کے بعد سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر دلائل دیتے ہوئے سزا یافتہ جج کے وکیل رضوان عباسی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ بچوں پر تشدد خاص طور پر گھریلو ملازمین پر ہر گھر میں ہوتا ہے ۔ میڈیکل بورڈ میں بھی طیبہ تشدد کیس میں جرم ثابت نہیں ہوا اسلئے پولیس کی جانب سے درج مقدمے کو غیر قانونی قرار دے کر خارج کیا جائے ۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز عدالت عالیہ اسلام آباد نے فاضل جسٹس عامر فاروق کے ٹرائل کے بعد فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا کہ ملزمان کو تین تین سال کی سزا اور جرمانے میں دو دو لاکھ روپے اضافہ کردیا۔

فاضل جسٹس عامر فاروق ، ملزمان کو ایک ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا رکھی تھی اور ملزمان کے وکلاء اسلام آبادکے سیکٹر آئی ایٹ میں گھریلو ملازمین طیبہ پر تشدد کے واقعہ کے بعد تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوان :