بلوچستان ہائیکورٹ میں کوئٹہ سول ہسپتال سے متعلق سماعت، کریمنل کیسز میں گرفتار قیدیوں کو جیل وارڈ منتقل کیاجائے ،تاحکم ثانی مذکورہ کمرے کسی کو الاٹ نہ کئے جائیں، عدالت

پیر جون 21:35

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے کوئٹہ کے سول ہسپتال کے وی آئی پی کمروں میں کریمنل کیسز میں نا مز د گرفتار قیدیوں کی موجودگی پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ فوری طورپر وی آئی پی کمروں سے کریمنل کیسز میں گرفتار قیدیوں کو جیل وارڈ منتقل کیاجائے ،تاحکم ثانی مذکورہ کمرے کسی کو الاٹ نہ کئے جائیں، کمروں کی برنٹ یو نٹ،آئی سی یو اور ایڈمنسٹریشن بلاک سمیت دیگر مقاصد کیلئے استعما ل با رے سول ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہوکر تجاویز اور آراء دیں ،سیکرٹری صحت اور ایم ایس سول ہسپتال اگلی سماعت پر خود پیش ہوکرپروگریس رپورٹ پیش کریں ۔

(جاری ہے)

یہ حکم ڈویژنل بینچ نے گزشتہ روز بیرسٹر عامر لہڑی کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔گزشتہ روز سماعت شروع ہوئی تو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ،ڈپٹی اٹارنی جنرل امین الدین بازئی ،سید اقبال شاہ ایڈووکیٹ ،ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب چوہدری ممتاز یوسف ،ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک آف پاکستان محمد علی ،ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ ارباب کامران اور انچارج ڈیتھ سٹاک محمد خیر عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔

سماعت شروع ہوئی تو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ نے ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ اربا ب کامران کے ہمراہ پیش ہوکر رپورٹ جمع کی ،انہوں نے بتا یا کہ ادویات کی پروکیورمنٹ کو حتمی شکل دیدی گئی ہے بلکہ آج سے ادویات کی سپلائی شروع کردی جائیگی جو31جولائی تک مکمل ہوگی ،ایم ایس نے اس مشینری کی بھی لسٹ پیش کی جسے مرمت کی ضرورت تھی اور کہاکہ کراچی سے ماہرین کی ٹیم پہنچ چکی ہے جو خراب مشینری کی مرمت کاکام کررہی ہے امید ہے کہ مشینری کی مرمت کاکام ایک ہفتے میں مکمل کرلیاجائے گا،انہوں نے غیر حاضر ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس اور دیگر سے متعلق بتایاکہ غیر حاضر طبی ،نیم طبی اور دیگر عملے کو نہ صرف نوٹسز جاری کئے گئے ہیں بلکہ ان کے خلاف ایکشن بھی لیاگیاہے جس کے بعد بعض نے فرائض کی انجام دہی شروع کردی ہے جبکہ کچھ ابھی تک غیر حاضر ہے جن کے متعلق رپورٹ سیکرٹری صحت کو مزید کارروائی کیلئے پیش کردی گئی ہے ایم ایس سول ہسپتال نے کہاکہ شعبہ حادثات کے سسٹم اور کپیسٹی کو مزید بہتر کیاگیاہے اور ڈاکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے شیڈول کے مطابق 24گھنٹے تک اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں ۔

انہوں نے کہاکہ شعبہ حادثات کیلئے ادویات اور ضروری آلات آج سے فراہم کردی گئی ہے اور شعبہ حادثات مکمل طورپرفعال ہے ایم ایس نے بتایاکہ انہیں ادویات اور آلات کیلئے اخراجات اور دیگر کی منظوری کیلئے طویل پروسس کے باعث مشکلات کاسامنا ہے انہوں نے یقین دلایاکہ ہسپتال کی بہتری کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائینگے ۔درخواست گزار کی جانب سے اس کے کونسل نے نشاندہی کی کہ سول ہسپتال میں ایک جیل وارڈ ہے بلکہ ہسپتال میں وی آئی پی کمرے بھی ہیں جہاں قیدیوں کو رکھاگیاہے حا لا نکہ ان کمروں کو ہسپتال میں کسی اور بہتر مقصد کیلئے بروئے کار لایاجاسکتاہے ۔

انہوں نے بتایاکہ کمرے ہسپتال میں انکم جنریشن کیلئے تھے لیکن اب ان کمروں میں حکو متی احکامات پر قیدی مو جو د ہیں، مذکورہ کمروں کو برنٹ وارڈ،آئی سی یو اور ایڈمنسٹریشن بلاک سمیت دیگر مقاصد کیلئے بروئے کارلایاجاسکتاہے ایم ایس نے مزید بتایاکہ سول ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان کا اس سلسلے میں اہم کردار ہے اس لئے ان کی تجاویز اور آراء بھی پوچھ لینی چاہیے تاکہ مزید بہتری لائی جاسکے اس موقع پر بینچ کے ججز نے کہاکہ اگر چہ سول ہسپتال کی بہتری کیلئے کی جانے والی کوششیں کسی حد تک باعث اطمینان ہے تاہم اب بھی بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے ۔

سماعت کے دوران عدالت کوبتایاگیاکہ سیکرٹری صحت بذات خود بھی ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس اور دیگر سٹاف کی حاضری کے سلسلے میں دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ سماعت کے دوران ڈویژنل بینچ کے ججز نے اس امر پر حیرت کااظہار کیااورکہاگیاکہ آخر وی آئی پی کمرے کیسے کریمنل کیسز میں گرفتار ملزمان اور قیدیوںکے زیراستعمال ہیں حا لا نکہ مذکورہ کمرے ہسپتال کے منافع میں اضافے کیلئے بنائے گئے تھے لیکن ان کا اب استعمال کسی اور مقصد کیلئے ہورہاہے ایم ایس کو ہدایت کی گئی کہ فوری طور پر وی آئی پی کمروں میں موجود ملزمان اور قیدیوں کو جیل وارڈ منتقل کیاجائے بلکہ مذکورہ کمرے تاحکم ثانی کسی کو بھی الاٹ نہ کئے جائیں ۔

سیکرٹری صحت اس سلسلے میں درخواست گزار ،ایم ایس اور دیگر کی تجاویز پرعملدرآمد کیلئے کام شروع کریں بلکہ سول ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان اگلی سماعت پر پیش ہوکر مذکورہ کمروںکی بہتر استعمال کے حوالے سے تجاویزدیں اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل امین الدین بازئی نے بتایاکہ غیرملکی کرنسی کور کے مسئلے کو وزارت خزانہ کے ساتھ زیر بحث لایاگیاہے اور امید ہے کہ اس مسئلے کو جلد حل کرلیاجائے گا۔

اس موقع پر بینچ کے ججز نے سیکرٹری صحت اور ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ کو اگلی سماعت پر پروگریس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مذکورہ حکم کی کاپی سیکرٹری صحت ،سیکرٹری داخلہ وقبائلی امور اور ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ کو بھی بھیجی جائیں ۔